لندن: ’دہشت گردی‘ کے دو واقعات میں سات افراد ہلاک، عالمی رہنماؤں کی مذمت

لندن حملہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عالمی رہنماؤں نے سنیچر کو لندن میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی مذمت اور برطانیہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس حملے میں سات افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوگئے تھے۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں حکام کا کہنا ہے کہ رات دس بجے کے بعد لندن برج کے علاقے میں ایک سفید رنگ کی ویگن نے راہگیروں کو کچل دیا اور پھر وہ منڈیر سے ٹکرا گئی۔ پولیس نے اس حملہ کو دہشتگردی قرار دیا ہے۔

راہگیروں کو کچلنے کے بعد اس ویگن سے اترنے والے تین افراد نے پل کے جنوب میں واقع بورو مارکیٹ میں موجود لوگوں پر چاقو کے وار بھی کیے۔

٭ لندن حملوں کے بعد کے مناظر

٭ ’وہ میرے قریب سے گزرا اور لوگوں کو کچل دیا'

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے کہا ہے کہ وہ ماضی سے بھی کہیں زیادہ برطانیہ کے ساتھ ہیں۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والوں چار فرانسیسی شہری شامل ہیں۔

ادھر آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرنبل نے کہا کہ ان کی دعائیں اور پختہ یکجہتی برطانیہ کے ساتھ ہے۔ اس حملے میں دو آسٹریلوی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں جن میں سے ایک ہسپتال میں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ امریکہ برطانیہ کی ہر قسم کی مدد کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہے۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل مانچسیٹر میں آریانا گریڈے کے ہی کنسرٹ کے اختتام پر بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

واقعے کی تفصیلات

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ 10 بج کر آٹھ منٹ پر ملنے والی مدد کی پہلی کال کے آٹھ منٹ بعد مشتبہ افراد سے مدبھیڑ کے بعد پولیس اہلکاروں نے انھیں گولی مار دی تھی۔

تاحال ان افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر مارک راؤلی کے مطابق ان افراد نے جعلی خودکش جیکٹس پہنی ہوئی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حملے میں وہی تین افراد شامل تھے جنھیں ہلاک کر دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ 'اس واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اب تک کیا ہوا؟

  • پولیس حکام کے مطابق ان حملوں میں سات افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوئے ہیں۔
  • پولیس نے تین مشتبہ افراد کو بھی ہلاک کیا ہے جنھوں نے جعلی دھماکہ خیز جیکٹس پہنی ہوئی تھیں۔
  • 48 زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے جبکہ کئی معمولی زخمیوں کو جائے وقوعہ پر ہی طبی امداد دی گئی۔
  • لندن بریج سٹیشن کو رات بھر کے لیے بند کر دیا گیا۔
  • تاحال کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

لندن ایمبیولینس سروس کے مطابق حملے کے بعد 48 افراد کو لندن کے پانچ مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔

برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے مطابق شدید زخمی افراد کو سر، چہرے اور ٹانگوں پر چوٹیں آئی ہیں۔

واقعے کے بعد دریائے ٹیمز کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب انتظامیہ نے اسے دوبارہ کھولتے ہوئے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے کشتیوں پر ہونے والی تقریبات منسوخ کرتے ہوئے فوری طور پر علاقہ خالی کر دیا تھا۔

یہ برطانیہ میں گذشتہ تین ماہ میں دہشت گردی کی تیسری کارروائی ہے اور ان میں سے دو کا ہدف لندن ہی تھا۔

مارچ میں لندن کے ویسٹ منسٹر برج پر اسی قسم کے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دو ہفتے قبل مانچیسٹر میں ایک کنسرٹ کے بعد ہونے والے خودکش دھماکے میں 22 افراد مارے گئے تھے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
دہشت گرد حملے کے دوران لندن برج اور بورو مارکیٹ میں چھ افراد ہلاک ہوئے

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے سنیچر کی شب پیش آنے والے واقعے کو 'خوفناک' قرار دیا ہے اور وہ اتوار کو کوبرا ایمرجنسی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کر رہی ہیں۔

لندن کے میئر صادق خان نے اسے 'لندن کے معصوم شہریوں پر ایک دانستہ اور بزدلانہ حملہ' قرار دیا ہے۔

حملے کے وقت لندن برج پر موجود بی بی سی کی نامہ نگار ہولی جونز کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ویگن 50 میل فی گھنٹہ کی تیز رفتار سے سفر کر رہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ 'وہ میرے قریب سے دائیں جانب گھوٹی اور پانچ سے چھ لوگوں سے ٹکرائی۔ اس نے میرے سامنے موجود دو افراد کو ٹکر ماری۔

لندن کی ٹرانسپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لندن برج کو دونوں اطراف سے بند کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ ’بڑا واقعہ ہے۔‘ بسوں کو بھی متبادل روٹس استعمال کرنے کو کہا گیا ہے۔ لندن برج تمام رات بند رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اسی بارے میں