’وہ میرے قریب سے گزرا اور لوگوں کو کچل دیا'

لندن برج تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ ہم نے لوگوں کو چیختے سنا اور بھاگتے ہوئے دیکھا

لندن میں سنیچر کی شب دہشت گردی کے دو واقعات میں چھ افراد کی ہلاکت اور 40 سے زیادہ کے زخمی ہونے کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

ان واقعات میں پہلے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع لندن برج پر سفید رنگ کی ایک ویگن لوگوں پر چڑھ دوڑی اور پھر اس میں سوار حملہ آوروں نے پل کے قریب واقع بورو مارکیٹ میں موجود افراد پر چاقوؤں سے وار کیے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے جائے وقوعہ کے قریب گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی ہیں۔

لندن: ’دہشت گردی‘ کے واقعات میں چھ ہلاک، 48 زخمی

بی بی سی کی نامہ نگار ہولی جونز اس واقعے کے وقت لندن برج پر ہی موجود تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ایک ویگن جسے ایک مرد چلا رہا تھا شاید 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ وہ میرے قریب سے گزرا اور کم از کم چار سے پانچ لوگوں کو کچل دیا۔'

انھوں نے بتایا کہ وین نے راہگیروں کو ٹکر ماری اور اس کے بعد زخمی ہونے والے پانچ افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وین مرکزی لندن سے آرہی تھی اور اس کا رخ دریا کے جنوب کی طرف تھا۔

ہولی جونز کے مطابق زخمیوں میں سے چار شدید زخمی تھے۔ بعدازاں نامہ نگار نے یہ بھی اطلاع دی کہ انھوں نے دیکھا کہ جائے وقوعہ پر پولیس ایک شخص کو گرفتار کر رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ایک فرانسیسی خاتون بھی زخمیوں میں شامل ہیں جن کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتی کہ ان کے ساتھ موجود مزید دو افراد کہاں گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمبولینس عملے کا کہنا ہے کہ انھوں نے اب تک کم از کم 20 افراد کو ہسپتال پہنچایا ہے

برو مارکیٹ کی پورٹر پب میں موجود ایک سکیورٹی گارڈ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انھوں نے تین افراد کو دیکھا جن میں سے ایک کے ہاتھ میں بڑا سا چاقو تھا اور وہ لوگوں کو مارتے جا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کا نشانہ بننے والوں میں ایک نوجوان لڑکی بھی تھی۔

گردن پر رکھے نیپکن سے خون ٹپک رہا تھا

کومی ڈی کوسٹا برو مارکیٹ میں اپنی دو دوستوں کے ہمراہ تھیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہویے انھوں نے بتایا کہ 'ٹیکسی ڈرائیور نے مارکیٹ کی جانب گاڑی کو موڑا اور ہم فائرنگ کے درمیان وہاں پھنس گئے۔ ہم گلی میں جا رہے تھے لیکن مڑ نہیں سکتے تھے۔'

ان کا کہنا تھا کہ دو لوگ زمین پر پڑے ہوئے تھے اور دو یا تین ان کے اوپر جھکے ہوئے تھے۔

'50 کے قریب پولیس اہلکاروں نے ہم پر اپنی گنیں تان لیں۔ ہم نے ہاتھ اوپر کر لیے۔ ہم باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہ ہمیں جانے دیں۔'

ایک شخص ریسٹورنٹ سے نکلا۔ اس نے اپنی گردن ہر نیپکن رکھا ہوا تھا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ ایک اور شخص وہاں زمین پر پڑا ہوا تھا لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ مر چکا تھا یا خطرے سے باہر تھا۔'

دو بار ہمیں گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اردگرد ہونے والی فائرنگ سے بچنے کے لیے جھکنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب لے جا رہی ہے

نتالی اور بین اس وقت برو مارکیٹ سے گزر رہے تھے اور وہ بھی عینی شاہدین میں شامل ہیں۔

بی بی سی فور سے گفتگو میں بین نے بتایا: 'میں نے ایک شخص کو سرخ لباس میں دیکھا جس کے پاس بڑا سا چاقو تھا، مجھے اس کی لمبائی معلوم نہیں، شاید 10 انچ ہو گی۔ وہ ایک شخص پر وار کر رہا تھا۔ اس نے اس پر تین مرتبہ وار کیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے گولیاں چلنے کی بھی آواز سنی۔

'بظاہر ایسا لگتا تھا کہ ان کا گلا کاٹا گیا ہے'

ایلکس شیلم اپنے دوستوں کے ہمراہ مڈلارک پب میں موجود تھے جو کہ لندن برج کے نیچے واقع ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دس بجے کے قریب ایک خاتون پب میں داخل ہوئیں اور مدد کی درخواست کی۔

انھوں نے بتایا کہ خاتون زخمی تھیں اور ان کی گردن سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔ 'بظاہر ایسا لگتا تھا کہ ان کا گلا کاٹا گیا ہے۔'

پب کے باہر ایمرجینسی سروس کے اہلکار لوگوں کو طبی امداد فراہم کر رہے تھے۔ 'ہم سے کہا گیا تھا کہ ہم مسلح پولیس کے ساتھ چلیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ H Attai
Image caption اس تصویر میں نظر آنے والی سفید وین بظاہر حملے میں استعمال ہوئی تھی

’وہ کہہ رہا تھا اس کے ہاتھ میں چاقو ہے‘

ایک عینی شاہد روبی لندن برج پر بیروبواے اور بینکر پب کے سامنے ایک ٹیکسی میں بیٹھے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: میں 30-20 افراد کو تیزی سے پب میں گھستے دیکھا اور پانچ سیکنڈ بعد ایک بڑی سفید وین پٹری پر چڑھ آئی۔

دو تین لوگ اس میں سے کودے۔ پہلے مجھے لگا کہ یہ کوئی ٹریفک کا معاملہ ہے اور لوگ گاڑی سے کودے ہیں کہ کہیں کوئی زخمی تو نہیں ہو گیا ہے لیکن میں نے دیکھا کہ وہ بہت جارحانہ نظر آ رہے تھے۔

اس کا دوست جوش چند سیکنڈ کے بعد پب سے نکلا تو اس نے دیکھا کہ لوگ برو مارکیٹ سے لندن برج کے ساتھ بھاگ رہے ہیں۔

ایک لڑکا دوڑتا ہو گزرا اور میں نے سنا وہ کہہ رہا تھا اس کے ہاتھ میں چاقو ہے، وہ لوگوں کو چاقو مار رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں