لندن حملہ آوروں میں سے ایک پاکستانی نژاد خرم بٹ تھے

لندن

لندن میں سنیچر کی شب پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والی برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری خرم بٹ تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 27 سالہ خرم بٹ شادی شدہ تھے اور ایک بچے کے والد تھے۔ وہ کئی سالوں سے مشرقی لندن میں بارکنگ کے علاقے میں مقیم تھے۔

خرم بٹ کو ایک مرتبہ اسلامی شدت پسندی کے بارے میں اور جیل میں قید مبلغ انجم چوہدری سے روابط کے حوالے سے چینل فور کی ڈاکیومنٹری میں شامل کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق اس حملے میں ملوث دوسرے حملہ آور کا تعلق مراکش سے تھا اور ان کا نام راشد رضوان تھا۔ ان کی عمر 30 سال تھی۔

یاد رہے کہ خرم بٹ اور راشد رضوان نے سنیچر کی شب لندن برج اور بورو مارکیٹ میں ایک حملے میں سات افراد کو ہلاک اور 48 کو زخمی کیا تھا۔

پولیس نے ان حملہ آوروں کو بھی موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ٹریزا مے کے الزامات مسترد کر دیے

لندن میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد 12 افراد گرفتار

’وہ میرے قریب سے گزرا اور لوگوں کو کچل دیا'

پیر کی صبح پولیس نے کہا ہے کہ حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں مشرقی لندن میں نیو ہیم اور بارکنگ کے علاقوں میں مزید دو مقامات کی تلاشی لی گئی ہے اور کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

پولیس نے اتوار کو بارکنگ کے ایک فلیٹ سے چند خواتین سمیت 12 افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں سے ایک 55 سالہ شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے رہا کر دیا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فلیٹ حملہ آوروں میں سے ایک کا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کی کمشنر کریسیڈا ڈک نے کہا ہے کہ پولیس کو حملہ آوروں کی ویگن سے اور چھاپوں کے دوران بہت بڑی تعداد میں فورینزک مواد ملا ہے۔'

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور ترجیح اب یہ بات جاننے کی ہے کہ اس منصوبے میں کوئی اور شامل تھا یا نہیں۔

خیال رہے کہ سنیچر کی رات دس بجے کے بعد لندن برج کے علاقے میں ایک سفید رنگ کی ویگن نے راہگیروں کو کچل دیا اور پھر وہ منڈیر سے ٹکرا گئی۔ پولیس نے اس حملہ کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔

راہگیروں کو کچلنے کے بعد اس ویگن سے اترنے والے تین افراد نے پل کے جنوب میں واقع بورو مارکیٹ میں موجود لوگوں پر چاقو کے وار بھی کیے۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ 10 بج کر آٹھ منٹ پر ملنے والی مدد کی پہلی کال کے آٹھ منٹ بعد مشتبہ افراد سے مدبھیڑ کے بعد پولیس اہلکاروں نے انھیں گولی مار دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

لندن برج کا ریل اور ٹیوب سٹیشن پیر کی صبح کھول دیے گئے ہیں جبکہ پل کے اردگرد کی سڑکوں پر کھڑی رکاوٹیں بھی ہٹا لی گئی ہیں۔

ادھر دو افراد نے بی بی سی کے ایشیئن نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایک حملہ آور کے بارے میں پولیس کو متنبہ کیا تھا۔

ایک شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں میں سے ایک گذشتہ دو برس میں انتہاپسندی کی جانب زیادہ مائل ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ایک حملے کے بارے میں بات کی تو زیادہ تر شدت پسندوں کی طرح اس کے پاس ہر چیز کی توجیح تھی اور اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے حکام سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جانب سے اطلاع دیے جانے کے بعد بھی حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ 'میں نے اپنا فرض نبھایا لیکن حکام نے ایسا نہیں کیا۔'

میٹروپولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر مارک راؤلی کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے 36 تاحال زیرِ علاج ہیں اور ان میں سے 21 کی حالت تشویشناک ہے۔

زخمیوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جنھوں نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی اور ان میں سے بھی دو شدید زخمی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے پیر کی صبح کوبرا کمیٹی کے ایک اور اجلاس کی صدارت کر رہی ہیں۔ انھوں نے اتوار کو کمیٹی کے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ 'وقت آ گیا ہے کہ کہہ دیا جائے کہ بہت ہو چکا۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانیہ میں شدت پسندی کو 'برداشت' کرنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

یہ برطانیہ میں گذشتہ تین ماہ میں دہشت گردی کی تیسری کارروائی ہے اور ان میں سے دو کا ہدف لندن ہی تھا۔

مارچ میں لندن کے ویسٹ منسٹر برج پر اسی قسم کے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دو ہفتے قبل مانچیسٹر میں ایک کنسرٹ کے بعد ہونے والے خودکش دھماکے میں 22 افراد مارے گئے تھے۔

دوسری جانب عالمی رہنماؤں نے لندن میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی مذمت اور برطانیہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے کہا ہے کہ وہ ماضی سے بھی کہیں زیادہ برطانیہ کے ساتھ ہیں۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والوں چار فرانسیسی شہری شامل ہیں۔

ادھر آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرنبل نے کہا کہ ان کی دعائیں اور پختہ یکجہتی برطانیہ کے ساتھ ہے۔ اس حملے میں دو آسٹریلوی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں جن میں سے ایک ہسپتال میں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ امریکہ برطانیہ کی ہر قسم کی مدد کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہے۔

اسی بارے میں