ایک پناہ گزین اور قوم پرست کی محبت کی کہانی

تصویر کے کاپی رائٹ Steve Finn
Image caption بیئٹرس ہیورے ماضی میں انتہائی دائیں بازو کی پارٹی فرنٹ نیشنل کی ممبر تھیں

بیئٹرس ہیورے شمالی فرانس کے ساحلی علاقے میں سورج طلوع ہونے سے پہلے اپنے محبوب کو ایک چھوٹی سی کشتی میں برطانیہ تک کا سفر کرتے دیکھ رہی تھیں۔ کیا وہ اپنے محبوب سے دوبارہ مل پائیں گی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ انھیں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے بیوقوف بنا کر چل پڑا۔ وہ اس شخص سے بس چند ہی ہفتے پہلے ملیں تھیں اور اس کا ایک ہی خواب تھا، برطانیہ میں نئی زندگی۔ کشتی کے افق پار کرنے پر بیئٹرس اپنی گاڑی میں واپس آکر بیٹھیں۔ وہ پر امید بھی تھیں مگر ساتھ ہی غیر یقینی کی حالت بھی تھی۔

پینتالیس برس کی بیئٹرس فرانس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت فرنٹ نیشنل کی ممبر رہ چکی ہیں اور بقول اُن کے وہ ایک نسل پرست پولیس اہلکار کی بیوہ ہیں۔ اُنھوں نے ایک پناہ گزین جو اِن کا محبوب بھی ہے اُسے کیلے میں پناہ گزینوں کے کیمپ سے برطانیہ فرار ہونے میں مدد دی۔

اُنھوں نے اپنی زندگی کے واقعات ایک کتاب میں رقم کیے جس کا نام 'کیلے مون امور' ہے اور اس کتاب میں اس لمحے کے بارے میں لکھا جب اُنھوں نے ترس کھا کر ایک پناہ گزین کو سواری دی اور پھر سب کچھ بدل گیا۔

بیئٹرس کے مطابق 2010 میں وفات سے پہلے اُن کے شوہر کیلے میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں تعینات تھے اور اُن کا مقصد کیمپ سے بھاگ کر برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں کی کوششوں پر قابو پانا تھا۔

پولیس اہلکار کی حیثیت سے اُنھیں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کی اجازت نہیں تھی۔ اسی لیے اپنے شوہر کے کہنے پر وہ فرنٹ نیشنل کی فعل ممبر بنیں۔ بیئٹرس کے مطابق وہ اپنے شوہر کی طرح نسل پرست تو نہیں تھیں مگر فرانس میں غیرملکیوں کی آمد پر پریشان ضرور تھیں۔

ایک سرد رات جب وہ کام سے گھر لوٹ رہیں تھیں تو اُنھیں راستے میں ایک سوڈانی لڑکے پر رحم آگیا اور اُنھوں نے اُسے اپنی گاڑی میں کیلے میں پناہ گزینوں کے کیمپ تک سواری دی۔

وہاں حالات دیکھ کر اُنھیں ایسا لگا جیسے وہ کسی جنگ زدہ علاقے میں ہیں۔ اور یہیں سے اُن کی کایا پلٹی۔

انھوں نے نہ صرف خود بلکہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو کیمپ میں مقیم لوگوں کی مدد کرنے کے لیے آمادہ کیا اور ان کے لیے کھانے اور کپڑوں کا انتظام کرنا شروع کیا۔ اور اسی دوران ایک دن اُن کی نظر مختار پر پڑی۔ ایک چونتیس برس کا سابق ٹیچر جو اپنا مذہب تبدیل کرنے کے بعد ایران سے جبر اور تشدد سے بچ کر بھاگا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایرانی پناہ گزین مختار جو کیلے کے پناہ گزین کیمپ میں مقیم تھے آن کی طرح کئی رہائیشیوں نے احتجاجاً ہونٹ سیے

اُن کی مختار سے ملاقات اُن دنوں میں ہوئی جب اُس نے کیلے کے پناہ گزینوں کے کیمپ میں انتہائی خراب حالات کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اپنے ہونٹ سیے ہوئے تھے۔ بیئٹرس کے مطابق جب وہ مختار سے ملیں تو اُس نے انھیں چائے پلانے کی دعوت دی۔ 'اُس کی نظر تھی اور اُس کا دھیماپن۔ اُس کے ہونٹ سلے ہوئے تھے مگر اُس نے پوچھا کیا آپ چائے پییں گی۔'

یہ ملاقات محبت میں بدلی اور سب دوستوں کے منع کرنے کے باوجود اُنھوں نے مختار اور اُس کے کچھ دوستوں کو اپنے گھر ٹھرا لیا۔ وہ اپنے محبوب کے مقاصد کے بارے میں بخوبی واقف تھیں۔ مختار کئی بار برطانیہ جانے کی ناکام کوشش کر چکے تھے۔ پھر مختار اور اُن کے دو دوستوں نے بیئٹرس کو 1000 یورو دیے تاکہ وہ ان کے لیے ایک چھوٹی کشتی خریدیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایرانی پناہ گزین مختار کیلے کے کیمپ میں مقیم تھے جہاں حالات کے خلاف رہائشی سراپا احتجاج ہیں

بیئٹرس نے بالکل ایسا ہی کیا اور پھر ایک دن مختار اور اس کے دو ساتھی جنھوں نے کبھی کشتی کی کمان نہیں سنبھالی تھی، برطانیہ کے سفر پر نکل پڑے۔ برطانیہ پہنچنے سے پہلے ہی وہاں کوسٹ گاڑڈز کو انھیں بازیاب کرنا پڑا کیونکہ ان کی کشتی ڈوبنے لگی تھی۔ بازیاب ہونے کے بعد انھیں برطانیہ میں پناہ دے دی گئی۔

اور بس پھر بیئٹرس ہر دوسرے ہفتے اپنے محبوب سے ملنے برطانوی شہر شیفیلڈ جاتی تھیں جہاں مختار کو ایک ہوسٹل میں رکھا گیا تھا۔

مگر یہ معاشقہ خوشی خوشی ختم نہیں ہوتا۔ پچھلے سال اگست میں بیئٹرس کو انسانی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

انھیں یہ الزام مذاق لگتا ہے کہ انھوں نے پیسے کے لیے یہ سب کچھ کیا۔ اگر اُن پر الزام ثابت ہوا تو انھیں دس سال سزا اور 750000 یورو جرمانہ ہوسکتا ہے۔

بیئٹرس کو ریاست کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد کی فہرست میں بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ اس فہرست میں تقریباً سب ہی افراد اسلامی شدت پسند ہیں۔ بیئٹرس کو اس بات پر ہنسی آتی ہے۔مگر جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا یہ سب کچھ کرنے کی جو قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے وہ زیادہ بھاری تو نہیں تو انھوں نے ہنس کر جواب دیا 'آپ پیار کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات