قطری جہازوں کے لیے فضائی حدود بند، خلیج کی ہوائی ٹریفک میں خلل پڑنے کا خدشہ

قطر ایئر ویز تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی عرب اور مصر کی جانب سے قطر کے ہوائی جہازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کرنے سے خلیج میں فضائی ٹریفک کے نظام میں وسیع پیمانے پرخلل پڑنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

سعودی عرب سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ مصر نے اعلان بھی کیا کہ وہ قطری جہاز اور طیاروں کے لیے اپنے بندرگاہ، فضائی حدود اور ایئر پورٹز بھی بند کر رہا ہے۔

٭ چھ ممالک کا قطر سے سفارتی تعلق ختم کرنے کا اعلان

٭قطر سعودی تنازع میں پھنسے پاکستانی

* قطر کے ساتھ کشیدگی کی 4 وجوہات

٭ قطر سے قطع تعلق کے نتیجے میں کیا کچھ داؤ پر ہے؟

٭ بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے قطر سے تعلقات کشیدہ

سعودی عرب کے شہری ہوا بازی کے حکام نے اس اعلان کے بعد اپنے ایئر پورٹس پر قطری جہازوں کے اترنے اور فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔

اس کے علاوہ مصر نے بھی بھی قطر کے ہوائی جہازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے اور اس کے ساتھ کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام پروازوں کو منگل کی صبح گرینج کے معیاری وقت کے مطابق چار بجے غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات میں شامل ریاست ابوظہبی کی سرکاری فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز نے منگل کی صبح سے دوحہ کے لیے تمام پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی اور قطری سربراہان رواں سال ریاض میں ایک ساتھ نظر آئے تھے

اتحاد ایئرویز کے اس اعلان کے بعد دبئی کی فضائی کمپنی امارات کے علاوہ بجٹ ایئرلائن فلائی دبئی، بحرین کی گلف ایئر اور مصر کی ایجپٹ ایئر کی جانب سے بھی ایسے ہی اعلانات کیے گئے ہیں۔

اس کے بعدقطر کی قومی ایئر لائن قطر ایئر ویز نے سعودی عرب جانے والی پروازوں کو معطل کر دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سائمن ایٹکنسن کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا قطر ایئرویز کے آپریشنز پر گہرا اثر پڑے گا جو کہ دبئی، ابوظہبی، ریاض اور قاہرہ کے لیے روزانہ درجنوں پروازیں چلاتی ہے۔

لیکن اصل مشکل ان ممالک کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی پابندی ہے۔ اس سے قطری فضائی کمپنی کو اپنے فضائی راستے تبدیل کرنے پڑیں گے جس کا نتیجہ ایندھن کے زیادہ استعمال اور پرواز کے دورانیے میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوگا۔

سعودی عرب نے ایک بیان میں قطر پر ’ایرانی حمایت یافتہ شدت پسند گروپوں‘ کے ساتھ مشرقی علاقوں قطیف اور بحرین میں تعاون کرنے کرنے کا الزام لگایا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے قطری سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ڈبلیو اے ایم کے مطابق ابوظہبی نے دوحہ پر دہشت گرد، انتہا پسند اور مسلکی تنظیموں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔

ملک کی سرکاری فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز نے بھی منگل سے دوحہ کے لیے تمام پروازیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مشاورتی کمپنی کارنرسٹون گلوبل کے ڈائریکٹر غنیم نوسابہ کا کہنا ہے کہ قطر ایئرویز نے خود کو اس خطے میں ایشیا اور یورپ کو ملانے والی فضائی کمپنی کے طور پر منوایا ہے لیکن یورپ کا وہ سفر جس میں پہلے چھ گھنٹے لگتے تھے اب آٹھ سے نو گھنٹوں کا ہو جائے گا جس کا نتیجہ مسافروں کا دیگر کمپنیوں سے رجوع کرنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات مقطع کرنے والے چھ عرب ممالک میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے قطری سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر اخوان المسلمون کے علاوہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔

قطر

دارالحکومت: دوحہ

  • آبادی ستائیس لاکھ

  • رقبہ گیارہ ہزار چار سو سینتیس مربع کلومیٹر

  • زبان عربی

  • مذہب اسلام

  • عمر کی حد اناسی برس (مرد) اٹھتر برس (خواتین)

  • کرنسی قطری ریال

Getty Images

سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے علاوہ قطر کو سعودی قیادت میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم عسکری اتحاد سے بھی نکال دیا گیا ہے۔

سفارتی تعلقات کے انقطاع کو خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور امریکی وزیرِ خارجہ نے ان ممالک سے کہا ہے کہ وہ وہ باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

خیال رہے کہ الجزیرہ ٹی وی نے قطر کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ 'سفارتی تعلقات توڑنے کے اقدامات بلاجواز ہیں اور ایسے دعوؤں اور الزامات کی بنیاد پر کیے گئے ہیں جو حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔'

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلے قطری عوام اور ملک میں مقیم دیگر افراد کی زندگیوں پر اثرانداز نہیں ہوگا۔

سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اعلانات مذکورہ ممالک کی جانب سے قطری نیوز ویب سائٹس بلاک کیے جانے کے واقعے کے دو ہفتے بعد کیے گئے ہیں۔

یہ ویب سائٹس قطری امیر تمیم بن حمد الثانی کے ان بیانات کی آن لائن اشاعت کے بعد بلاک کی گئی تھیں جن میں وہ سعودی عرب پر کڑی تنقید کرتے دکھائی دیے تھے۔

قطری حکومت نے ان بیانات کو جعلی قرار دیا تھا اور اسے 'شرمناک سائبر جرم' کہا تھا۔

اسی بارے میں