'رقصِ شمشیر کا نتیجہ'

قطر کارٹون تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس کارٹون کو بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے قطر تنازع کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے

سعودی عرب سمیت چھ مسلم ممالک کا قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے پر سوشل میڈیا میں ہلچل ہے اور زیادہ تر لوگ قطر کی حمایت میں نظر آتے ہیں۔

ٹوئٹر پر 'قطر' ہیش ٹیگ کے ساتھ 'ترکی ود قطر'، 'آئی سٹینڈ ود قطر'، 'پیپل آف دا ورلڈ ود قطر' جیسے ہیش ٹیگ نظر آئے۔

عربی زبان میں بھی 'خليجنا_واحد' 'قطع_العلاقات_مع_قطر' 'كلنا_قطر' جیسے کئی ہیش ٹيگ دیکھے گئے جن میں قطر اور قطری لوگوں کی حمایت نظر آئی۔

بعض لوگوں نے قطر سے رشتہ منقطع کیے جانے کو امریکی صدر کے دورے کا نتیجہ بھی قرار دیا جبکہ کچھ نے اسے ایران کے خلاف وسیع جنگ کا پیش خیمہ قرار دیا۔

بعض صارفین نے قطر کے لوگوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے رمضان کے مہینے میں ان کے لیے کھانے پینے کی اشیا میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا۔ جبکہ بہت سے قطری باشندوں نے اپنے رہنما پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

واشنگٹن میں الحیات کی بیورو چیف جوائس کراما نے لکھا: 'قطر کو بلاک کر دیا گيا ہے۔ اس کی پروازیں اب صرف، ایران، عراق، اردن سے ہی مشرق وسطیٰ جا سکتی ہیں یا پھر ایران اور ترکی کے راستے ہی یورپی یونین کی جانب۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس تصویر کو بھی بڑے پیمانے پر ٹویٹ کیا جا رہا ہے اور اس تنازع کی وجہ صدر ٹرمپ کو بتایا جا رہا ہے

اس ٹویٹ کو پانچ ہزار بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔

روسی ٹی وی چینل آر ٹی نے ٹویٹ کیا: 'رقص شمشیر کا نتیجہ: عرب ممالک میں قطر سے کشیدگی ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ دورے کا نتیجہ ہے۔'

اسے بھی سینکڑوں افراد نے ری ٹویٹ اور لائک کیا ہے۔ اس کے جواب میں حسین بن عقول نامی ایک صارف نے لکھا: 'استعماری قوتیں ایسا ہی کرتی ہیں، لوگوں کو تقسیم کرتی ہیں، نفرت اور جہالت پھیلاتی ہیں اور ان کی دولت لوٹ لیتی ہیں۔'

یاسمین ای سٹیورٹ نے لکھا کہ 'قطر کو چاہیے کہ وہ زیادہ اچھی طرح سے جی سی سی کے وسیع گروپ کی رہنمائی کرے۔'

مصطفیٰ اکن نے لکھا: 'ترکی قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔ قطر ہمارا مسلم برادر ملک ہے اور مصیبت میں بھائی ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption عرب کی جنگ پر شدید طنز کی علامت کے طور پر اس کارٹون کو دیکھا جا رہا ہے۔ اس پر درج ہے کہ ’دنیا میں آخری عرب‘

آئی سٹینڈ ود قطر نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا کہ 'ہم قطر کے ساتھ اس لیے کھڑے ہیں کہ اس ملک نے شامی قتل عام میں مرنے والوں کی حمایت میں اپنی عید کی تقریبات رد کر دی تھی۔'

اسے بھی سو سے زیادہ بار ری ٹویٹ اور تقریبا دو سو بار لائک کیا گيا۔ اس کے جواب میں ایک شخص نے ان کی تصحیح کرتے ہوئے لکھا کہ 'قومی دن کے جشن کو منسوخ کیا تھا نہ کہ عید کے جشن کو۔'

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی الیزابتھ نے زرکوف نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'حلب سے میرے ایک دوست نے یہ تصویر فیس بک پر پوسٹ کی تھی اور اس کا عنوان دیا تھا کرۂ ارض پر آخری عرب۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس بات پر بھی حیرت کی جا رہی ہے کہ یمن سعودی کے ساتھ کیوں ہے

لنڈا ہیمبی نے ایک کارٹون پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: 'دہشت گردی کے بڑے حامی سعودی عرب اور اس کے پیادے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کے لیے پل پڑے ہیں۔'

رحمت اللہ شیخ نے لکھا کہ 'قطر تنازع کا ایک سب سے افسوسناک نتیجہ اشیا خوردنی کی دکانوں پر لوگوں کی بھیڑ ہے۔ ان کی 50-40 فیصد چیزیں سعودی عرب سے آتی ہیں۔'

ایک شخص ستار سعیدی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر ڈال کر لکھا: 'وہ آئے، بدنظمی پھیلائی اور چلے گئے۔'

پرنس مارا نام سے ایک ٹوئٹر نے لکھا: 'سعودی نواز حکومتیں قطر کے خلاف صف آرا ہو رہی ہیں لیکن دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ کھیل کیا ہے اور جھوٹ کیا۔'

ٹریٹا پارسی نے لکھا: 'ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ قطر کا مکمل بائيکاٹ بین الاقوامی قوانین کی رو سے اعلان جنگ ہے۔ یہ ایران کے خلاف وسیع جنگ کا پہلا قدم ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں