خرم بٹ کون؟

تصویر تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption پولیس نے جن دو افراد کا نام ظاہر کیا ہے ان میں سے ایک خرم بٹ ہیں

خرم بٹ نے لندن والوں پر اپنے قاتلانہ حملے کے دوران معروف فٹبال کلب آرسنل کی جرسی پہن رکھی تھی۔

جنھیں وہ مارنا چاہتے تھے ان میں سے بھی کچھ نے ویسے ہی رنگ کی جرسی پہن رکھی ہوگی۔

لیکن اس کا اصلی رنگ وہ ہے جو گذشتہ چند سالوں کے دوران دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں نے دکھایا ہے۔

٭ پولیس کا خرم بٹ کے خلاف تحقیقات نہ کرنے کا دفاع

٭ لندن حملہ آوروں میں سے ایک پاکستانی نژاد خرم بٹ تھے

وہ کالعدم المہاجرون نیٹ ورک کا حصہ تھے تھے جس کی قیادت انجم چوہدری کے ہاتھوں میں ہے اور وہ ابھی جیل میں ہیں۔

27 سالہ بٹ اپریل سنہ 1990 میں پاکستان میں پیدا ہوئے۔ وہ برطانوی شہری ہیں اور کئی سال سے مشرقی لندن میں مقیم ہیں۔ ان کی شادی ہو چکی ہے اور دو بچوں کے باپ ہیں۔

انٹرنیٹ پر ان کا جو سی وی ہے اس میں یہ درج ہے کہ وہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں دوسری سطح کے این وی کیو ہیں اور وہ سنہ 2012 میں ایک کمپنی کے لیے کام کر چکے جو کے ایف سی چلاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لندن برج حملے کے مہلوکین کی یاد میں لوگوں نے نذرانۂ عقیدت پیش کیے

ٹرانسپورٹ برائے لندن نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے گذشتہ سال سنہ 2016 میں چھ ماہ تک معاون کسٹمر سروس کے ٹرینی کے طور پر کام کیا تھا اور اکتوبر میں کام چھوڑ دیا تھا۔ کول کاسمیٹکس نامی کمپنی کے وہ اکیلے ڈائریکٹر بھی تھے۔ اب یہ کمپنی بند ہو چکی ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے وہ شدت پسند اسلام پسند سیاست میں کب اور کس طرح شامل ہوئے لیکن اس بات کے شواہد ہیں کہ وہ المہاجروں نیٹ ورک میں سنہ 2015 میں ضرور شامل تھے۔

اس کا سب سے بڑا ثبوت چینل فور کی ایک دستاویزی فلم 'جہادی نیکسٹ ڈور' میں ان کی موجودگی ہے جو کہ گذشتہ سال نشر کی گئي تھی۔

اس دستاویزی فلم میں اے ایل ایم نیٹ ورک کو دیکھایا گيا تھا اور اس کا ایک موضوع انجم چوہدری کا دایاں ہاتھ سدھارتھ دھر تھا۔ سدھارتھ دھر بعد میں شام بھاگ گئے۔ ایک بار وہ سیاہ نقاب میں دولت اسلامیہ کے ایک پھانسی دینے والے ویڈیو میں دیکھے گئے۔

چینل فور کی اس دستاویزی فلم میں خرم بٹ کو ایک اہم منظر میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں وہ لندن پارک میں دولت اسلامیہ کے پرچم کی نمائش پر ایک گروپ سے ساتھ کھڑے ہیں اور پولیس افسر کے ساتھ غصے سے بات کر رہے تھے۔

اس میں دوسرا اہم شخص ابو حلیمہ ہے اور سکیورٹی سروس اس پر کڑی نظر رکھ رہی ہے بطور خاص اس انکشاف کے بعد کہ اس کا تعلق اس نوجوان سے تھا جو برطانیہ میں دہشت گردی کے جرم میں سزا پانے والا سب سے کم عمر نوجوان تھا۔

خرم بٹ کا رشتہ مزید آگے جاتا ہے۔ مانچیسٹر میں ایک دہشت گردی مخالف گروپ رمضان فاؤنڈیشن کے محمد شفیق کہتے ہیں کہ انھیں یاد ہے کہ خرم بٹ نے سنہ 2013 میں اس دن ان سے بدکلامی کی تھی جس دن اے ایل ایم کے ایک پیروکار نے لندن کے علاقے وولرچ میں برطانوی فوجی لی رگبی کو قتل کر دیا تھا۔

Image caption چینل فور کے ویڈیو میں بھی خرم بٹ نظر آئے تھے جس سے ان کے انتہا پسندانہ رویہ کا اندازہ ہوتا ہے

’جب میں نے انجم چوہدری کو دہشت گردی کی حمایت پر ٹوکا تو اس سے مجھے مرتد اور حکومت کا چمچہ کہا۔‘

پولیس آئي اور وہ وہاں سے انجم چوہدری، خرم بٹ اور ديگر افراد کو لے گئی۔ مجھے کوئي حیرت نہیں کہ خرم بٹ نے یہ دہشت گردانہ حملہ کیا ہو۔

مشرقی لندن میں بارکنگ کے ایک رہائشی ایرکا گیسپری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اپنی ایک الگ پریشانی ہے کہ خرم بٹ اور مزید تین افراد میرے بچوں کو ریڈیکل بنانے کوشش کر رہے تھے۔

انھوں نے ہماری ٹیم کو بتایا کہ وہ ایک ڈیڑھ سال قبل ان کی تصاویر لے کر پولیس سٹیشن گئیں تھیں اور اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ایک شخص نے رازداری کی شرط پر کہا کہ خرم بٹ جب ٹرانسپورٹ برائے لندن میں کام کر رہا تھا تو وہ کم کپڑوں میں ملبوس خواتین کے لیے نفرت کا اظہار کیا تھا۔

وہ اس کے انتہا پسندانہ رویہ سے اتنا پریشان ہو گيا کہ اس نے دہشت گردی مخالف ہاٹ لائن پر فون کر دیا۔

بٹ نے بظاہر اے ایل ایم کی اس مہم میں حصہ لیا تھا جس میں انھوں نے مسلمانوں سے ووٹ میں نہ شرکت کرنے کی اپیل کی تھی۔ جب اس نے جابر بن زید مسجد کے امام کو ووٹ کے موضوع پر ٹوکا تو اسے وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔

تو کیا پولیس اور ایم آئي5 سے کچھ چھوٹ گیا؟ سکارٹ لینڈ یارڈ کے مطابق اسے سنہ 2015 کے موسم گرما اس کے بارے میں پتہ چلا تھا لیکن اس کے کسی منصوبے کے بارے میں کوئی بات سامنے نہیں آ سکی تھی۔

دہشت گردی مخالف ہاٹ لائن پر فون آنے کے بعد اسے ان 500 ایکٹو جانچ کی فہرست میں رکھا گیا تھا جن سے کبھی بھی تفتیش کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے بعد اس کے بارے میں قطیعت سے کوئی بات پتہ نہیں چل سکی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں