امریکی حمایت یافتہ فوج کا رقہ پر قبضے کے لیے ایک اور حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک اندازے کے مطابق ڈھائی سے پانچ لاکھ کے درمیان افراد اب بھی اس شہر میں مقیم ہیں

امریکی حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ رقہ کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے تازہ حملہ کیا ہے۔

سیرئین ڈیمو کریٹک فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ حملے پیر کو شروع کیا گیا اور فوجیں کئی اطراف سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

رقہ کی پیچیدہ جنگ اس وقت کیوں؟

ایک نگران ادارے کا کہنا ہے کہ مشرقی رقہ اور شمالی نواحر علاقوں میں ایک فوجی اڈے پر جھڑپیں ہونے کی اطلاع ہے۔

ادارے کے مطابق امریکی اتحادی افواج کو فضائی حملوں کی مدد بھی حاصل ہے۔

سیرئین ڈیمو کریٹک فورسز جن کا کہنا ہے کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کے حامی ہیں اور نہ انہیں ہٹانے کی کوشش کرنے والے باغیوں کے، انھوں نے پچھلے ایک سال کے دوران شمالی شام کے علاقوں میں دولتِ اسلامیہ سے 6000 مربع کلومیٹر کا رقبہ آزار کروا لیا ہے۔

خیال رہے کہ رقہ کو 2014 میں دولت اسلامیہ کی جانب سے ’خلافت‘ کا اعلان کرنے کے بعد سے اسے دارالخلافہ قرار دیا گیا تھا۔

جبکہ دولت اسلامیہ نے رقہ شہر پر 2013 میں صدر بشار الاسد کے مخالف باغیوں سے قبضہ حاصل کیا تھا۔

خیال رہے کہ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے پروان چڑھنے میں رقہ پر قبضہ ایک اہم موڑ تھا۔

ایک اندازے کے مطابق ڈھائی سے پانچ لاکھ کے درمیان افراد اب بھی اس شہر میں مقیم ہیں اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی جانب سے عام شہریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

گذشتہ سال نومبر میں امریکی اتحاد میں شامل کرد اور عرب افواج نے شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کی خود ساختہ 'خلافت' کے دارالخلافے رقہ پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

اس آپریشن کو ’فرات کا غصہ‘ نام دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں