سعودی عرب: ڈرائیونگ پر پابندی کے خلاف کام کرنے والی کارکن دوبارہ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لجين الهذلول (یہ ان کی تصویر نہیں) خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔

سعودی عرب میں خواتین کے حقوق پر آواز اٹھانے والی کارکن لجين الهذلول کو ایک مرتبہ پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انہیں اس سے پہلے ڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر 73 دن کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا۔

’سعودی خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی سے معیشت متاثر ہو رہی ہے‘

حکام نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ هذلول کو گرفتار کیوں کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق لجين الهذلول کو 4 جون کو دمام میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ هذلول کو نہ وکیل تک رسائی دی گئی ہے اور نہ ہی فیملی سے ملنے دیا گیا ہے۔

هذلول کو اس سے پہلے سنہ 2014 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ گاڑی چلا کر متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔

دنیا میں سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ہے۔

اطلاعات کے مطابق انہیں منگل کو ریاض لے کر جایا جائے گا جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سماح حدید نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کو 'مسلسل ہراساں' کیے جانے کا 'کوئی جواز نہیں اور یہ احمقانہ ہے'۔

'وہ پر امن انداز میں بطور ایک انسانی حقوق کی کارکن کے خواتین کے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں اور اس بارے میں ریاست میں بہت سی رکاوٹیں ہیں، بظاہر انہیں اسی وجہ سے ایک مرتبہ پھر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔'

سعودی عرب میں خواتین کا گاڑی چلانا غیر قانونی نہیں ہے لیکن لائسنس صرف مردوں کو جاری کیے جاتے ہیں اور سرعام گاڑی چلانے والی خواتین کو گرفتاری یا پولیس کی جانب سے جرمانے کا خطرہ رہتا ہے۔

سنہ 2015 میں پہلی مرتبہ ملک میں خواتین کو ووٹ دینے یا انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی اور اس سال نومبر میں هذلول نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا، انہیں بطور امیدوار تو تسلیم کر لیا گیا لیکن بعد میں بیلٹ پیپر پر ان کا نام ہی شامل نہیں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں