ہم اس بحران کے پیچھے حقیقی وجوہات کے بارے میں نہیں جانتے: قطر

قطر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

قطر نے سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک کی جانب سے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اعلان کے بعد سفارتی تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ تمام ممالک کو بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کو دور کرنے چاہئیں۔

قطر سعودی تنازع میں پھنسے پاکستانی

قطر سے تنازع، خلیج میں فضائی نظام متاثر ہونے کا خدشہ

چھ ممالک کا قطر سے سفارتی تعلق ختم کرنے کا اعلان

قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہات

قطر سے قطع تعلق کے نتیجے میں کیا کچھ داؤ پر ہے؟

الجزیرہ ٹی وی نے قطری وزیرِ خارجہ سے اس بحران کی وجوہات کے بارے میں سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا 'ہم قطر کے خلاف پیدا ہونے والے حیران کن تنازعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس بحران کے پیچھے حقیقی وجوہات کے بارے میں نہیں جانتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

محمد بن عبدالرحمان الثانی کے مطابق اگر اس بحران کے پیچھے اصل وجوہات تھیں تو ان پر گذشتہ ہفتے جی سی سی کے ہونے والے اجلاس میں بات چیت یا بحث کی جا سکتی تھی تاہم اس اجلاس میں اس بارے میں کوئی بات چیت یا بحث نہیں کی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاض میں ہونے والے امریکی اسلامی عرب سمٹ میں بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا۔ 'ان اجلاسوں میں ایسا کچھ بھی تھا تو ہمارے پاس اس بحران کے پیدا ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔'

الجزیرہ کے اس سوال پر کہ اس بحران کے بعد قطر کے امیر شیخ تمیم آج رات خطاب کرنے والے تھے تاہم ان کا خطاب ملتوی کیوں کر دیا گیا کے جواب میں شیخ محمد کا کہنا تھا کہ قطر کے امیر قطر کے لوگوں سے خطاب کرنا چاہتے تھے لیکن انھیں کویت کے امیر نے فون کر کے اس بحران کو ختم کو حل کرنے کے لیے اس خطاب کو ملتوی کرنے کا کہا۔

خیال رہے کہ امیرِ کویت نے سنہ 2014 میں ایک بحران کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔

شیخ محمد نے کہا کہ قطر کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات غیر معمولی اور یکطرفہ ہیں۔ 'ہم قطر میں ایسی نوعیت کا کوئی قدم نہیں اٹھاتے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کوئی بھی مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا مزید کہنا تھا 'ہمیں افسوس ہے کہ جی سی سی میں شامل کچھ افراد قطر پر اپنی خواہش نافذ کرنا چاہتے یا اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ تاہم ہمارا خیال ہے کہ اس نے جی سی کے کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔'

الجزیرہ کی جانب سے پوچھے جانے والے اس سوال پر کہ اس بحران سے قطر میں عام زندگی کتنی متاثر ہو گی، شیخ محمد کا کہنا تھا کہ قطر میں اس سے پہلے بھی متعدد بحران آ چکے ہیں جیسا کہ سنہ 1996 میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اور سنہ 2014 میں جی سی سی ممالک اور قطر کے درمیان پیدا ہونے والا بحران۔ تاہم ہم نے ان بحرانوں پر قابو پا لیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قطر اپنے شہریوں کو معمول کی زندگی فراہم کرنے کے لیے خود پر انحصار کرے گا۔ 'ہمارے پاس ایسے پروگرامز ہیں جس کے ذریعے ہم زندگی کے تسلسل اور عام طور پر اہم عمارت کے منصوبوں کو یقینی بنائیں گے۔'

اس سوال پر کہ اس بحران سے قطر کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کتنے متاثر ہوں گے شیخ محمد کا کہنا تھا کہ قطر کے امریکہ کے ساتھ تعلقات سرکاری اداروں کے ذریعے بنائے جاتے ہیں جو کہ مضبوط ہیں۔ 'قطر اور امریکہ کے تعلقات مارجینل گروپس نہیں بناتے بلکہ امریکہ حکومت کے سرکاری ادارے یہ تعلقات بناتے ہیں۔ '

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے امریکہ کے ساتھ سٹریٹجیک تعلقات ہیں اور ہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اس کے مضبوط اتحادی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں