اسلحے کے تاجر عدنان خشوگی لندن میں انتقال کر گئے

خشوگی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2005 میں ایڈز متاثرین کے لیے امدادی مہم کے دوران خشوگی اپنی اہلیہ لائمہ کے ہمراہ

اسلحے کے عالمی تاجر عدنان خشوگی 82 برس کی عمر میں لندن میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کی وفات کے بعد ان کے خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ پارکنسن کے مرض میں مبتلا تھے اور ان کا علاج ہو رہا تھا۔

عدنان خشوگی 70 اور 80 کی دہائی میں اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص بنے جب انھوں نے بین الاقوامی سطح پر اسلحے کے معاہدے کیے۔

ان کی جانب سے منعقد کردہ پارٹیاں کئی روز تک جاری رہتی تھیں تاہم ان کے کاروبار کے حوالے سے بہت سی متنازع باتیں بھی سامنے آئیں۔

وہ اپنی پرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے مشہور تھے۔

منگل کو ان کے خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'انھوں نے اپنے آخری دن اپنے بچوں اور پوتے، پوتیوں کے ہمراہ اسی شان اور وقار کے ساتھ گزارے جو ان کی غیر معمولی زندگی کا حصہ تھا۔‘

یاد رہے کہ عدنان خشوگی نے 60 اور 70 کی دہائی کے دوران امریکی کمپنیوں اور سعودی عرب کے درمیان اسلحے کے معروف معاہدے کرائے۔

یہ وہ وقت تھا جب وہ لاک ہیڈ کارپوریشن جو کہ اب لاک ہیڈ مارٹن ہے، کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

بعدازاں خشوگی نے سعودی عرب سے تیل کے بدلے میں اسلحے کی ڈیل میں برطانیہ کے بجائے فرانس کا ساتھ دیا اور 20 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کروایا جو کہ آج بھی موجود ہے۔

تاہم اپنے کاروبار کی وجہ سے وہ ہمیشہ متنازع شخصیت رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کاشوگی کا بحری جہاز نبیلہ اب ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے اور اس کا نام ’ٹرمپ پرنسز‘ ہے۔

سنہ 1987 میں ٹائمز میگزین کے سرورق پر ان کی تصویر کے ساتھ موجود سرخی کچھ یوں تھی: 'اسلحے کے پراسرار تاجر: عدنان خشوگی کی اعلیٰ زندگی اور بڑے سودے۔'

انھوں نے سنہ 1980 کی دہائی میں کچھ عرصہ قید بھی کاٹی۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے فلپائن کے صدر فرڈیننڈ مارکوس اور ان کی اہلیہ کے فنڈز خفیہ رکھنےمیں مدد دی تھی۔

سنہ1997 میں پیرس کی ایک عدالت نے عدنان خشوگی کو حکم دیا تھا کہ وہ 1986 میں امریکہ سے 37 فن پارے سمگل کرنے کے جرم میں ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کریں۔

ایک وقت تھا جب عدنان خشوگی کے پاس دنیا کا سب سے بڑی کشتی’ نبیلہ‘ تھی جس کی لمبائی 86 میٹر ہے اور اسے جیمز بانڈ کی فلم ’نیور سے نیور اگین‘ میں استعمال کیا گیا تھا۔

جب انھیں کاروبار میں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو انھوں نے یہ کشتی برونائی کے سلطان کے حوالے کی جنھوں نے اسے 1980 کی دہائی میں ڈونلڈ ٹرمپ کو دو کروڑ 90 لاکھ ڈالر میں بیچ دیا جو اب امریکہ کے صدر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں