قطر سے اظہارِ ہمدردی قابلِ سزا جرم ہے: متحدہ عرب امارات

مشرقِ وسطیٰ

متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے شہریوں اور اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا یا کسی دیگر ذریعے سے قطر کے لیے ہمدردی کا اظہار ایک قابلِ سزا جرم ہے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق یہ تنبیہ اٹارنی جنرل حماد سیف الشمس کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کی گئی ہے۔

ٹرمپ کا شاہ سلمان کو فون، خلیجی یکجہتی پر زور

قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہات

متحدہ عرب امارات ان چھ ممالک میں شامل ہے جنھوں نے پیر کو قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قطر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کے علاوہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم قطر نے ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ ترکی اور کویت قطر کو تنہا کرنے کے مخالف ہیں۔

خلیج ٹائمز کے مطابق اٹارنی جنرل حماد سیف الشمس نے بیان میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے قطر کی جانب سے متحدہ عرب امارات، خلیج تعاون کونسل اور دیگر عرب اقوام کے بارے میں اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کی وجہ سے اس کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ 'متحدہ عرب امارات کی قومی سلامتی کی حفاظت اور ملکی اور عوامی مفادات کے لیے یہ سخت فیصلہ کیا گیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بیان میں عوام سے کہا گیا ہے کہ 'جو کوئی بھی قطر کے لیے ہمدردی یا پسندیدگی کا اظہار کرے گا یا یو اے ای کی پوزیشن کے خلاف سوشل میڈیا یا ابلاغ کےکسی اور ذریعے کو استعمال کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔'

فیڈرل پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق فیڈرل پینل کوڈ اور وفاقی قانون کے مطابق جو بھی قومی سلامتی اور استحکام و مفادات کے لیے خطرہ بنے گا اسے تین سے 15 سال قید اور کم ازکم پانچ لاکھ درہم کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان پر زور دیا ہے کہ قطر پر شدت پسندوں کی حمایت کے الزام کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازعے پر خلیجی ممالک میں یکجہتی پیدا کرے۔

تاہم اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے قطر کو تنہا کرنے کا اقدام 'دہشت گردی کے خاتمے کا آغاز' ہو سکتا ہے۔

اس تنازعے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں، آمدورفت اور قطر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔

اسی بارے میں