معلق پارلیمان: جب کوئی بھی جماعت الیکشن نہ جیت سکے تو کیا ہو سکتا ہے؟

Houses of Parliament تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانیہ کے عام انتخابات میں ایک معلق پارلیمان وجود میں آئی ہے یعنی کسی ایک جماعت کو حکومت سازی کے لیے اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب ان حالات میں کیا ہو سکتا ہے؟

کیا سب سے زیادہ ارکانِ پارلیمان والی جماعت حکومت بنائے گی؟

یہ ضروری نہیں کہ جسے سب سے زیادہ نشستیں ملی ہوں وہی پارٹی حکومت تشکیل دے۔

برطانوی انتخابات کے نتائج: بی بی سی اردو کی لائیو کوریج

برطانوی انتخابات کے نتائج کا نقشہ

تاہم عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ 650 نشستوں والی پارلیمان میں جس جماعت کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوتی ہیں اسی کو فاتح مانا جاتا ہے اور اسی جماعت کا رہنما عموما اگلا وزیراعظم بھی ہوتا ہے۔

لیکن شاید اس بار معلق پارلیمان کی صورت میں ایسا نہ ہو۔ یہ بہت ممکن ہے کہ جو جماعت دوسرے نمبر پر ہے وہ دیگر پارٹیوں کی مدد سے حکومت تشکیل دے پائے۔

انتخابات کیسے جیتے جاتے ہیں؟

وزیراعظم بننے کا آسان طریقہ تو یہ ہے کہ پارلیمان کے ایوان زیر یں یعنی دارالعوام میں اکثریت حاصل کی جائے۔ اکثریت حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ارکان کی تعداد دیگر تمام جماعتوں کے مجموعی ارکان پارلیمان کی تعداد سے زیادہ ہو۔

ظاہر ہے 650 میں سے اس کے لیے 326 ارکان کا تعلق آپ کی جماعت سے ہونا ضروری ہے۔

کسی بھی حکومت کے لیے ایوان میں قانون سازی کرنے اور حزب اختلاف کے ہاتھوں شکست سے بچنے کے لیے یہ تعداد کافی ہے۔ لیکن اگر اتنی تعداد میں کسی بھی ایک جماعت کو نشستیں حاصل نہیں ہوئیں تو پھر کہا جاتا ہے کہ پارلیمان معلق ہے۔


May, Corbyn. Sturgeon, Farron تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

معلق پارلیمان کیا ہے؟

جب کوئی بھی جماعت اتنی نشستیں حاصل نہیں کر پاتی کہ وہ اپنے بل بوتے اکثریتی حکومت قائم کر سکے تو کہا جاتا ہے کہ معلق پارلیمان ہے۔ یہی صورت حال 2010 کے عام انتخابات کے بعد بھی پیدا ہوئی تھی۔

اب کیا ہوگا؟

معلق پارلیمان کی صورت میں بھی کنزرویٹو پارٹی کی حکومت قائم رہ سکتی ہے اور ٹریزا مے وزیراعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں اس وقت تک رہ سکتی ہیں جب تک یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ نئی حکومت کون تشکیل دے گا یا جب تک وہ خود ہی مستعفی نہیں ہوجاتیں۔

اس دوران ایک مخلوط حکومت کے قیام کے لیے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں اور ان کی ٹیموں کے درمیان بات چیت کا دور شروع ہو سکتا ہے جس میں اس بات پر غور و فکر ہو سکتا ہے کہ ٹریزا مے کو موقع دیا جائے یا پھر دوسر نمبر پر آنے والی جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کو۔

واضح رہے کہ موجودہ صورت حال میں یہی دو رہنما وزارت عظمی کے عہدے کے دعویدار کہلائے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں میں کوئی ایک خود اپنا راستہ اختیار کرے اور دوسری چھوٹی جماعتوں کی مدد سے ایک اقلیتی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے۔

حکومت سازی کا موقع سب سے پہلے کسے مل سکتا ہے؟

کنزرویٹو پارٹی کی رہنما ٹریزا مے کو، جن کی جماعت کو تقریبا 318 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ دوسری جماعتوں کی مدد سے اکثریت حاصل کرنے تک وہ وزیراعظم کے عہدے پر برقرار بھی رہ سکتی ہیں۔

اگر یہ واضح ہو جائے کہ وہ اپنی ان کوششوں میں ناکام رہی ہیں اور جیریمی کوربن کو کامیابی مل سکتی ہے تو پھر ٹریزا مے مستعفی ہوسکتی ہیں اور کوربن وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کو ایسا کرنے کے لیے اس بات کا انتظار نہیں کرنا ہے کہ پہلے ٹریزا مے اپنی تمام کوششیں مکمل کر لیں پھر کوربن اپنی کوشش شروع کریں گے بلکہ دونوں ہی اپنی اپنی کوششیں ایک ساتھ ہی شروع کر سکتے ہیں۔

یہ دونوں ہی جس جماعت سے چاہیں اتحاد کے لیے بات کر سکتے ہیں۔

کتنا عرصہ لگے گا؟

اس کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے کہ اتنے دن میں طے کرنا ضروری ہے۔ 2010 میں اس عمل میں پانچ دن کا وقت لگا تھا لیکن اس بار اس بات کا امکان ہے کہ اس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔


David Cameron and Nick Clegg تصویر کے کاپی رائٹ PA

بات چیت غیرمعینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے؟

فی الوقت پہلی ڈیڈ لائن تیرہ جون ہے جب نئی پارلیمان کا پہلا اجلاس منعقد ہو گا۔ ٹریزا مے کے پاس اس تاریخ تک حکومت سازی کے لیے اتحاد کرنے یا پھر مستعفی ہونے کے لیے وقت ہے۔

تاہم مستعفی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم پر واضح ہو کہ کوربن حکومت بنا سکتے ہیں اور وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔ وہ حق رکھتی ہیں کہ دارالعوام میں اعتماد کا وووٹ لینے کی کوشش کریں۔

بریگزٹ پر بات چیت کا کیا ہوگا؟

معلق پارلیمان یا پھر جیریمی کوربن کے وزیراعظم بننے کی صورت میں یہ بات چیت ملتوی ہو سکتی ہے۔ ان مذاکرات کا آغاز 19 جون کو ہونا تھا لیکن اگر حکومت سازی میں تاخیر ہو رہی ہو تو یورپی یونین سے التوا کے لیے کہا جا سکتا ہے۔

ملکہ کا کردار کیا ہے؟

کسی جماعت کا/کی سربراہ ملکہ کو مطلع کر سکتا/سکتی ہے کہ ان کے پاس دارالعوام میں اکثریت ہے جس پر ملکہ انھیں حکومت سازی کی اجازت دیتی ہیں۔

روایتی طور پر ملکۂ برطانیہ جماعتی سیاست میں مداخلت نہیں کرتیں اس لیے ایسا کوئی امکان نہیں کہ وہ وزیراعظم کا انتخاب کریں۔

یہ امکان ضرور ہے کہ وہ حکومت نہ بننے کی صورت میں ایوان سے خطاب نہ کریں۔

حکومتی اتحاد کیا چیز ہے؟

پارلیمنٹ میں حکومتی اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ دو یا اس سے زیادہ سیاسی جماعتیں مل کر بطور ایک یونٹ حکومت کریں۔

اتحاد میں چھوٹی پارٹیوں کو بھی وزارتیں دی جاتی ہیں اور ایک مشترکہ پروگرام پیش کیا جاتا ہے۔


Commons chamber

کیا اس بار حکومتی اتحاد بنے گا؟

اس بار حکومتی اتحاد کا امکان 2010 کے الیکشن کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کا انحصار چار عناصر پر ہے۔

  • کیا ممکنہ اتحادیوں کے پاس اتنی نشستیں ہیں کہ وہ ایک قابلِ عمل اکثریت حاصل کر سکیں۔
  • کیا سب سے بڑی جماعت اتحاد بنانا چاہتی ہے یا پھر وہ اقلیتی حکومت بنانے کی کوشش کرے گی۔
  • کیا ممکنہ اتحادی ایک دوسرے کو اس بات پر قائل کر سکیں گے کہ ایسا کرنا فائدہ مند ہے۔
  • کیا وہ پالیسیوں پر اتفاق کر پائیں گے؟ چھوٹی جماعتوں کو کچھ معاملات میں اپنے موقف چھوڑنے پڑیں گے مگر کچھ پالیسیوں پر وہ اصرار کریں گے۔

شمالی آئرلینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ٹوریز کے ساتھ اتحاد کر سکتے ہیں اور یہ معلق پارلیمنٹ میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

جیریمی کوربن ایس این پی اور لبرل ڈیموکریٹس کے ساتھ اتحاد کی سربراہی کر سکتے ہیں تاہم اب تک انھوں نے کہا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔

مگر ان کی شیڈو سیکرٹری برائے خارجہ امور ایملی تھورنبیری کہہ چکی ہیں کہ ان کی پارٹی ایس این پی، لبرل ڈیموکریٹس اور گرین پارٹی کے ساتھ اتحاد کی کوشش کر سکتی ہے۔

ادھر لبرل ڈیموکریٹس کہہ چکے ہیں کہ کسی اتحاد یا کسی معاہدے کا امکان نہیں ہے۔ ایس این پی کی سربراہ کہہ چکی ہیں کہ وہ ترقی پسند اتحاد کا حصہ بننا چاہیں گی جس کی پالیسیاں ترقی پسند ہوں۔

مگر انھوں نے کہا تھا کہ جیریمی کوربن متبادل وزیراعظم کے طور معتبر نہیں ہیں۔

اقلیتی حکومت کیا چیز ہے؟

اگر کنزرویٹیو یا لیبر دونوں ہی حکومتی اتحاد کی تشکیل میں ناکام رہتے ہیں یا اکیلے ہی حکومت کرتے ہیں تو وہ ایک اقلیتی حکومت بنا سکتے ہیں۔

تاہم حکومت سازی جیسے کہ کسی قانون کو منظور کروانے کے لیے انھیں دیگر پارٹیوں کی حمایت کی ضرورت پڑے گی۔

اقلیتی حکومت کو قابلِ عمل بنانے کے لیے کتنی نشستیں درکار ہوں گی؟

کوئی جماعت اکثریت حاصل کیے بغیر بھی اقلیتی حکومت چلا سکتی ہے۔

اسے ایک منقسم اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔ اگر لیبر یا کنزرویٹو جماعت اقلیتی حکومت بناتی ہے تو کسی قانون کو روکنے کے لیے لبرل ڈیموکریٹس، ایس این پی، یوکیپ، پلیڈ سیمرو، گرینز اور ڈی یو پی، سب کو مل کر اس کے خلاف ووٹ ڈالنے پڑیں گے۔

ایسا عملاً کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس صرف حکومت سے زیادہ سیٹیں ہونا کاقی نہیں ہے۔ ان کا ایک واضح متبادل اتحاد ہونا بھی لازمی ہے۔.

کیا دوسرے نمبر پر آنے والے جماعت حکومت بنا سکتی ہے؟

ہاں! لیکن یہ واضح نہیں کہ عوام ایسی حکومت کو تسلیم کریں گے یا نہیں۔

اقلیتی حکومت کتنی مستحکم ہوگی؟

برطانیہ میں پہلے بھی اقلیتی حکومتیں آ چکی ہیں مگر یہ زیادہ عرصہ چلتی نہیں ہیں۔

سکاٹ لینڈ میں سکاٹش نیشنل پارٹی نے 2007 اور 2011 میں اقلیتی حکومت بنائی تھی۔


کیا ایک بار پھر انتخابات ہوں گے؟

Ballot box تصویر کے کاپی رائٹ PA

ایسا ممکن ہے۔ ماضی میں اقلیتی حکومتوں کے بننے پر وزرائے اعظم نے جلد سے جلد دوبارہ انتخابات کی کوشش کی ہے تاکہ قابلِ عمل اکثریت حاصل کر سکیں یا پھر اپوزیشن نے تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے انھیں دوبارہ انتخابات پر مجبور کیا ہے۔

2010 میں لبرل ڈیموکریٹس اور کنزرویٹوز نے اپنے اتحاد کو قدرے مستحکم بنانے کے لیے فکسڈ ٹرم پارلیمنٹ ایکٹ پاس کیا تھا۔ اس کے مطابق الیکشن اب صرف تب ہو سکتا ہے:

  • اراکینِ پارلیمان کا دو تہائی حصہ الیکشن کی حمایت کرے۔ حقیقی معنوں میں لیبر اور کنزوریٹوز دونوں کو الیکشن کا مطالبہ کرنا ہو گا۔
  • اگر کسی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ پاس ہو اور ہو یا کوئی اور حکومت اگلے 14 روز میں عدم اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کر سکے۔

پارلیمان کے تحلیل ہونے کے 25 روز بعد الیکشن کروایا جائے گا۔

کیا اور بھی کوئی راستہ موجود ہے؟

یہ کچھ بےیقینی کی سی کیفیت ہے۔ برطانیہ کے پاس تحریری شکل میں کوئی آئین موجود نہیں اور ماہرین اس بات پر منقسم ہیں کہ اگر کوئی جماعت حکومت نہ بنا سکے تو کیا ہوگا۔

یہاں کچھ متبادل حالات دیے جا رہے ہیں۔

  • اگر دارالعوام میں تحریکِ عدم اعتماد منظور کر لی جاتی ہے تو وزیراعظم جماعت کی قیادت اپنے کسی ساتھی کو سونپ سکتی ہیں۔ جو پھر 14 دن میں اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کرے گا۔
  • وزیراعظم مستعفی ہو سکتی ہیں اور اقتدار قائدِ حزبِ اختلاف کو سونپ سکتی ہیں جو پھر حکومت بنانے کی کوشش کرے گا۔ یہ انتخابات کے بغیر حکمران پارٹی کی تبدیلی کی شکل ہے۔ آج تک برطانیہ میں ایسا ہوا نہیں ہے اور اس سے ملک میں آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

_

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں