’سیاسی عمل میں حصہ لینے سے ہی برطانوی مسلمان چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں‘

انگلینڈ انتخابات تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برطانیہ میں عام انتخابات میں صرف چند گھنٹے باقی ہیں۔ یہ برطانیہ میں دہشت گردی کے حملوں اور ان کے اثرات کے تحت ہونے والے پہلے عام انتخابات نہیں ہوں گے کیونکہ اس پہلے بھی برطانیہ کو آئرش ریپبلکن آرمی - آئی آر اے سے کئی عشروں تک نبرد آزما ہونا پڑا تھا۔

مانچیسٹر اور لندن میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد برطانوی معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم، حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ صحیح طرح اینگیج نہ کرنے اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی مزید سخت کرنے جیسے معاملات انتخابی مہم کا ایجنڈا بن چکے ہیں۔

٭ برطانوی انتخابات: 30 پاکستانی نژاد میدان میں

کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ اور وزیراعظم ٹریزا مے کو حزب مخالف کی جماعتیں برطانیہ میں دہشت گرد حملوں کے بعد سکیورٹی کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہیں اور ان کی پولیس فورس کی کمی کی پالسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانیہ میں انتخابات سے قبل مانچیسٹر اور لندن میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں

دوسری جانب لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کے بارے میں ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کو درپیش سکیورٹی چیلینجز سے نمٹنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔

یہ انتخابات ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جب مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم پر کام کرنے والی تنظیم 'ٹیل ما ما' کے مطابق مانچسٹر اور لندن میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ان انتخابات میں تقریباً ہر سیاسی جماعت کی جانب سے تعلق رکھنے والے مسلمان امیدوار بھی میدان میں ہیں۔اور ان امیدواروں کے بقول سیاسی عمل میں حصہ لینے سے ہی برطانوی مسلمان خود کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

بی بی سی اردو نے برطانوی انتخابات کی خصوصی کوریج میں تین بڑی جماعتوں کی پاکستانی نژاد خاتون رہنماؤں سے خصوصی گفتگو کی۔

سعیدہ وارثی، کنزرویٹو پارٹی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’میں نہیں تو کون، اب نہیں تو کب‘

سعیدہ وارثی کے آباؤاجداد کا تعلق راولپنڈی کی تحصیل گجر خان سے ہے اور وہ حکمران کنزرویٹو پارٹی کی سابق چیئرپرسن ہونے کے علاوہ کابینہ کی پہلی مسلمان خاتون وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ سعیدہ وارثی کے بقول چاہے وہ اپوزیشن لیبر پارٹی ہو یا کہ خود ان کی اپنی جماعت کنزرویٹو پارٹی، کوئی بھی جماعت مسلمانوں کے ساتھ انگیج کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے بقول 20-25 لوگوں کے ذریعے 30 لاکھ مسلمان کمیونٹی کے ساتھ اینگیج کرنے کو انگیجمنٹ نہیں کہا جا سکتا۔

رائے عامہ کے جائزوں میں برتری صرف چند پوائنٹس تک محدود رہنے کے باوجود سعیدہ وارثی کو یقین ہے کہ انتخابات میں ان کی جماعت ہی اکثریت حاصل کرے گی۔

ڈاکٹر روزینہ ایلن خان، لیبر پارٹی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’ہاف پاکستانی،ہاف پولش ہوں، یہی میرا برطانیہ ہے‘

روزینہ خان کے والد کا تعلق بھی پاکستان سے ہے اور وہ لندن کے مئیر صادق خان کے سابق حلقہ انتخاب ٹوٹنگ سے دوسری بار الیکشن لڑ رہی ہیں۔ اس سے پہلے وہ یہیں سے پارلیمان کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔

روزینہ خان کے مطابق وہ خود مکسڈ بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والی ٹوٹنگ کی عام سی لڑکی ہیں جن کی والدہ خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے تین نوکریاں کرتی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی نژاد مسلمان خاتون کے لیے برطانوی سیاست میں مقام بنانا مشکل تو ہے لیکن وہ اپنی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ اپنے خاندانی اور نسلی پس منظر کو کبھی آڑے نہیں آنے دیتیں اور ان کی سیاست کی کامیابی یہی ہے۔

روزینہ ایلن خان کے بقول ان انتخابات میں لیبر پارٹی کامیابی حاصل کرے گی کیونکہ لیبر ان جیسے عام برطانیوں کی پارٹی ہے جس نے یہ یقینی بنایا کہ ان جیسی غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی کیمبرج جیسی یونیورسٹی سے میڈیکل پڑھ کر ڈاکٹر بن سکے۔

آمنہ احمد، لبرل ڈیموکریٹس

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’الیکشن جیتوں یا ہاروں شادی تو ضرور ہوگی‘

آمنہ احمد لاہور میں پیدا ہوئیں لیکن لندن میں پلی بڑھیں۔ وہ مغربی لندن کے سٹن اور چیم کے حلقے سے انتخاب لڑ رہی ہیں جہاں اصل مقابلہ ان کی جماعت لبرل ڈیموکریٹس اور کنزرویٹو پارٹی کے درمیان ہوتا ہے۔ گذشتہ انتخابات میں اس حلقے سے کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار چند ہزار ووٹوں سے جیتے لیکن اس مرتبہ آمنہ احمد جیت کے لیے پر امید ہیں۔

آمنہ احمد نے لیبر اور کنزرویٹو پارٹی دونوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف ان کی جماعت لبرل ڈیموکریٹس ہی اصولوں کی سیاست کر رہی ہے۔

آمنہ احمد کے بقول لبرل ڈیموکریٹس وہ واحد پارٹی ہے جس نے عراق کی جنگ میں برطانیہ کے حصہ لینے کی مخالفت کی۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانوی مسلمان مین سٹریم سیاست میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے کر اپنے مسائل نہ صرف حل کر سکتے ہیں بلکہ ایسا کرنے سے برطانوی عوام کو مسلمان کمیونٹی کو بہتر طور پر زیادہ سمجھنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں