برطانوی انتخابات میں سٹے بازوں کا فیورٹ کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برطانیہ میں عام انتخابات ہوتے ہی رائے عامہ کے جائزوں میں حکمران کنزرویٹو پارٹی کو حزب مخالف لیبر پارٹی پر تقریباً 20 پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی لیکن جوں جوں انتخابی مہم عروج پر پہنچتی رہی، لیبر پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا رہا۔ رائے عامہ کے تازہ جائزوں میں اب کنزرویٹو پارٹی کی برتری صرف چند پوائنٹس ہی رہ گئی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے علاوہ پولیٹیکل گیمبلنگ یا سیاسی سٹے بازی کی ویب سائٹس پر بھی سیاسی مبصرین کی نظریں مرکوز رہتی ہیں۔ اس وقت کنزرویٹو پارٹی سیاسی سٹے بازوں کی فیورٹ ہے۔

٭ برطانوی انتخابات میں پاکستانی نژاد خواتین رہنما

٭ برطانوی انتخابات: 30 پاکستانی نژاد میدان میں

٭ فوری انتخابات سے بریگزٹ میں آسانی ہو گی: ٹریزا مے

سوال یہ ہے کہ 'پولیٹیکل بیٹنگ' یا سیاسی سٹے بازی میں فیورٹ امیدوار یا پارٹی کا تعین کیسے ہوتا ہے؟ اور پھر مختلف شرطوں کے ریٹ یا بھاؤ کیسے طے کیے جاتے ہیں۔

مائیک سمتھسن پولیٹیکل بیٹنگ کے ماہر ہیں اور اپنی کتاب 'دی پولیٹیکل پنٹر' میں انھوں نے ان لوگوں کے لیے سیاسی سٹے بازی کے گْر تحریر کیے ہیں جو اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

مائیک کے بقول پولیٹیکل بیٹنگ یا سیاسی سٹہ بازی میں 'آڈز' یا بھاؤ طے ہونے کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگ کس امیدوار یا پارٹی پر زیادہ پیسہ لگاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیا جیریمی کوربن اس بار برطانوی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے بکیز کو ہرانے کا اپ سیٹ کر سکیں گے؟

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ رائے عامہ کے جائزوں میں تو کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کے درمیان فرق کم ہے لیکن سٹے بازی کی مارکیٹ میں فرق خاصا زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کی جیت پر بڑی بڑی شرطیں لگائی جا رہی ہیں۔

مغربی ممالک میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ سیاسی رپورٹنگ سے وابستہ صحافی اپنے تـجزیوں میں رائے عامہ کے جائزوں کے علاوہ بیٹنگ مارکیٹ کے بھاؤ کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔

ہیرلڈ سکاٹ لینڈ سے وابستہ صحافی پیٹر سوینڈن بھی ان صحافیوں میں شامل ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے سیاسی سٹہ بازی کی مارکیٹ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'سیاسی رپورٹنگ میں سیاسی بیٹنگ کے بھاؤ پر نظر رکھنے سے آپ کی سٹوریز میں زیادہ گہرائی نظر آئے گی، آپ کو مختلف شرطوں کے بھاؤ سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ سیاسی منظر نامہ کون سی کروٹ بدل سکتا ہے۔'

سیاسی سٹے بازی کا موضوع دلچسپ اس لحاظ سے بھی ہے کہ اس میں کبھی کبھار بڑے بڑے اپ سیٹس بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بھی اسی تیزی سے آتا ہے جس تیزی سے سیاسی صورت حال بدلتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مثال کے طور پر برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا اس نکلنے پر ہونے والے ریفرینڈم میں 'ریمین' یعنی یورپی یونین میں رہنے کی حامی مہم بکیز کی فیورٹ تھی۔

لیکن ریفرینڈم میں 'لیو' کیمپ کی جیت نے رائے عامہ کے جائزوں ، مبصرین اور سیاسی پنڈتوں کے علاوہ بکیز کو بھی غلط ثابت کر ڈالا۔

اسی طرح برطانیہ کی حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کے سربراہ نے جب اپنی جماعت کی سربراہی کے لیے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو سٹے بازوں نے ان کی جیت کا بھاؤ 'ایک پر سو' یعنی ایک کے بدلے سو پاؤنڈ رکھا تھا، لیکن جیسے جیسے جیریمی کوربن اپنی کامیاب مہم کے باعث جیت کے قریب ہوتے گئے، سٹے باز مارکیٹ میں ان کی جیت پر ملنے والے پیسے بھی کم ہوتے گئے۔ آخر میں جیریمی کوربن نے لیبر پارٹی کے سربراہ کا انتخاب جیت کر ایک بڑا سیاسی اپ سیٹ کر دیا۔

تو کیا یہی جیریمی کوربن اس بار برطانوی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے بکیز کو ہرانے کا اپ سیٹ کر سکیں گے؟

اسی بارے میں