ایگزٹ پولز: کنزرویٹو پارٹی سب سے زیادہ سیٹیں جیت سکتی ہے

بی بی سی کی عمارت کے باہر ایگزٹ پولز کے نتائج تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایگزٹ پول کے مطابق کنزرویٹو سب سے زیادہ 314 سیٹیں جیت سکتی ہے

ایگزٹ پولز کے مطابق برطانیہ میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کر سکتی ہے لیکن شاید حکومت بنانے کے لیے اکثریت حاصل نہ کر سکے۔

برطانیہ میں عام انتخابات کے لیے پولنگ ختم ہوگئی ہے اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

برطانوی انتخابات میں پاکستانی نژاد خواتین رہنما

برطانوی انتخابات میں سٹے بازوں کا فیورٹ کون؟

پولنگ سٹیشنز پر کیے گئے سروے کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے بعد کنزرویٹو پارٹی 314 سیٹیں حاصل کر سکتی ہے۔

سروے کے مطابق لیبر پارٹی 266، لیبرل ڈیموکریٹس 14، سکاٹش نیشنل پارٹی 34 اور یو کِپ کوئی کے کوئی بپی سیٹ نہ جیتنے کا امکان ہے۔

یہ سروے بی بی سی، آئی ٹی وی اور سکائی کے لیے کیا گیا تھا۔

برطانوی عوام نے اس الیکشن میں پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی دارالعوام کے لیے 650 ارکان منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالے۔

جمعرات کو برطانیہ میں عوام نے نئی حکومت کے قیام کے لیے اپنا حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔

پولنگ کا آغاز برطانوی وقت کے مطابق صبح سات بجے ہوا اور یہ رات دس بجے تک جاری رہا۔ پورے ملک میں ان انتخابات کے لیے 40 ہزار پولنگ مراکز قام کیے گئے تھے۔

کسی سیاسی جماعت کو ان انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے دارالعوام کی کم از کم 326 سیٹیں جیتنا ضروری ہیں۔

اس بار تقریباً چار کروڑ 69 لاکھ افراد رجسٹرڈ ووٹرز تھے جبکہ سنہ 2015 کے عام انتخاب میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد چار کروڑ 64 لاکھ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے سے پولنگ مراکز ووٹ ڈالنے کے لیے کھلیں گے اور شام دس بجے تک پولنگ جاری رہے گی

ان انتخابات میں ایک بار پھر کنزرویٹو پارٹی اور لیبر پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

بعض ووٹر ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ پہلے ہی ڈال چکے تھے۔ گذشتہ عام انتخاب میں 16 فیصد سے بھی زیادہ لوگوں نے ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالا تھا۔

2015 کے انتخاب میں، جب کنزرویٹیو پارٹی نے 331 سیٹیں حاصل کی تھیں، ووٹنگ کی شرح 66.4 فیصد تھی۔

شام دس بجے تک ووٹ ڈالنے کا وقت ہے لیکن حکام کے مطابق جو افراد اس وقت تک قطار میں لگ چکے ہوں گے انھیں دس بجے کے بعد بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔

ووٹنگ مکمل ہونے کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوجائے گا اور امکان اس بات ہے کہ بعض حلقوں کے نتائج رات کو ہی آ جائیں گے تاہم مکمل نتائج جمعے کی دوپہر تک سامنے آئیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں