لندن حملے: لندن حملے: مشرقی لندن سے مزید تین افراد گرفتار

لندن تصویر کے کاپی رائٹ Unknown/Met Police
Image caption لندن حملوں میں مراکشی نژاد اطالوی شہری یوسف زغبہ، پاکستانی نژاد خرم بٹ اور لیبیائی نژاد راشد رضوان شامل تھے

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں گذشتہ سنیچر کو ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے دوران پولیس نے مشرقی لندن میں چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں اور مزید تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔

گرفتار کیے جانے والے دو افراد کو دہشت گردی کے شبہے میں جبکہ ایک شخص کو غیرقانونی ادویات کی فراہمی میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

خرم بٹ کون؟

لندن برج: تیسرے حملہ آور کی شناخت ظاہر کر دی گئی

لندن حملے کے بعد اب تک کل 17 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ پانچ کو زیرحراست لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوگئے تھے۔ حکام کے مطابق سنیچر کی شب دس بجے کے بعد لندن برج کے علاقے میں ایک سفید رنگ کی ویگن نے راہگیروں کو کچل دیا اور حملہ آوروں نے چاقوؤں سے وار کیے تھے۔

حالیہ گرفتاریاں بدھ کی شب مشرقی لندن میں انسداد دہشت گردی اہلکاروں کی جانب سے کی گئی ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے دو افراد کو الفورڈ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں ایک 27 سالہ شخص کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے شبہے میں جبکہ ایک 33 سالہ شخص کو کنٹرولڈ ادویات مہیا کرنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جبکہ 29 سالہ تیسرے شخص کو بھی الفورڈ کے علاقے س دہشت گردی کی تیاری میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ The Times
Image caption سی سی ٹی وی فٹیج میں تینوں شخص بارکنگ کے علاقے میں ایک جم کے باہر ملاقات کر رہے تھے

پولیس کی جانب سے لندن حملوں میں ملوث تینوں حملہ آوروں کی شناخت ظاہر کی جاچکی ہے۔ ان میں مراکشی نژاد اطالوی شہری یوسف زغبہ، پاکستانی نژاد خرم بٹ اور لیبیائی نژاد راشد رضوان شامل تھے۔

برطانوی نیوز ویب سائٹ دی ٹائمز کی جانب سے شائع ہونے والی ایک سی سی ٹی وی فٹیج میں تینوں حملہ آوروں کو حملے سے پانچ دن قبل پیر 29 مئی کو برطانوی وقت کے مطابق شب 12 بج کر دس منٹ پر بظاہر ملاقات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

دی ٹائمز کے مطابق سی سی ٹی وی فٹیج میں تینوں شخص بارکنگ کے علاقے میں ایک جم کے باہر ملاقات کر رہے تھے۔

ویڈیو میں راشد رضوان اپنا موبائل زمین پر پھینکتے ہیں اور دیگر حملہ آوروں کے ساتھ چلے جاتے ہیں اور پھر دس منٹ بعد اپنا موبائل اٹھانے دوبارہ آتے ہیں۔

اخبار کے مطابق یہ فٹیج پولیس کو فراہم کر دی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں