برطانیہ میں عام انتخابات: پکی پکائی دیگیں نہ دفاتر میں چھٹی

انتخاب تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برطانیہ میں ہونے عام انتخابات میں پولنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہاؤس آف کامنز کی ساڑھے چھ سو نشستوں کے لیے تین ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔

روایتی طور پر تو مقابلہ دو بڑی جماعتوں کنزرویٹو اور لیبر کے درمیان ہوتا ہے لیکن لبرل ڈیموکریٹس اور سکاٹش نیشنل پارٹی کی شکل میں ایسی جماعتیں بھی میدان میں ہیں جو کہ ’ہنگ‘ یا معلق پارلیمان کی صورت میں حکومت سازی میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ایک عام دن

برطانیہ میں عام انتخابات کے دن عام تعطیل نہیں ہوتی، دفتر بند ہوتے ہیں نہ سکول اور یونیورسٹیاں۔ لوگ کام پر جانے سے پہلے یا کام ختم کرنے کے بعد ووٹ ڈالنے کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنز کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان کی طرح برطانیہ میں بھی پولنگ سٹیشنز سکولوں میں ہی بنائے جاتے ہیں لیکن صرف وہی سکول بند کیے جاتے ہیں جہاں پولنگ سٹیشنز ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ووٹ کیسے کاسٹ ہوتا ہے؟

برطانیہ میں ووٹنگ کا عمل پاکستان سے مختلف ہے۔ پولنگ سٹیشن کے باہر آپ کو سیاسی جماعتوں کے کیمپ نظر نہیں آتے اور نہ ہی ووٹروں سے کچھا کھچ بھری سیاسی جماعتوں کی جھنڈوں والی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی ووٹر سے اس کا نام اور پتہ پوچھ کر ووٹر لسٹ چیک کی جاتی ہے اور پھر بیلٹ پیپر لے کر ووٹر ووٹ کے لیے مختص جگہ پر جا کر اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے سامنے کراس لگ دیتا ہے اور ووٹ بیلٹ باکس میں ڈال دیتا ہے۔

بیلٹ پیپر تھماتے وقت ووٹر کا شناختی کارڈ یا کوئی اور شناختی دستاویز چیک نہیں کی جاتی۔ اور نہ ہی ووٹ ڈالنے کرنے کے بعد انگوٹھے پر سیاہی کا نشان لگایا جاتا ہے۔

ووٹ کسے ڈالا، اگر بتایا تو جرمانہ

پاکستان میں تو ووٹ ڈالنے تک مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن ووٹر کو اپنے لیے ووٹ دینے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن برطانیہ میں پولنگ سٹیشن کی حدود آپ کو کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں دکھیں گے۔

پاکستان میں پولنگ کے عملے کے ساتھ ہر امیدوار کے پولنگ ایجنٹ بھی موجود ہوتے ہیں لیکن برطانیہ میں پولنگ سٹیشن کے اندر کسی سیاسی جماعت کے پولنگ ایجنٹ آپ کو نظر نہیں آئی گے۔ اس کے علاوہ پولنگ سٹیشن کے باہر نہ تو آپ کو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے بھرے کیمپ نظر آئیں گے، نہ ہی پکی پکائی دیگیں دکھیں گی اور نہ ہی آوے ہی آوے اور ’جیتے ہی جیتے‘ کے نعرے سننے کو ملیں گے۔

برطانوی قوانین کے مطابق کسی بھی طرح یہ ظاہر کرنا کہ ووٹر نے کس پارٹی کو ووٹ دیا ہے یا دینے جا رہا ہے، ایک جرم ہے جس پر پانچ ہزار پاؤنڈ جرمانے کی سزا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پولنگ سٹیشن میں سیلفیاں نہیں

سیلفیاں آج کل خاصی مقبول ہیں لیکن برطانیہ میں الیکٹورل کمیشن کے ضوابط میں پولنگ سٹیشنز کے اندر سلفیاں نہ لینے پر زور دیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ووٹر اپنے پالتو جانوروں کو پولنگ سٹیشن کے اندر لے جا سکتے ہیں لیکن اس شرط پر کہ آپ کی پالتو بلی یا کتا الیکشن کے عمل میں کوئی خلل نہ ڈالے۔ اور اگر آپ آپ کے پالتو جانور ایک سے زیادہ ہیں تو آپ پولنگ کے عملے سے ان کی حفاظت کرنے کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔

نتائج کا اعلان

رات دس بجے تک جاری پولنگ کی اختتام پر ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور چند گھنٹوں میں ملک بھر کے 50 ہزار پولنگ سٹیشنز سے نتائج آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ہر حلقے میں ریٹننگ افسر سرکاری نتیجے کا اعلان کرتا ہے اور اس موقع پر اس حلقے کے تمام امیدوار بھی موجود ہوتے ہیں۔ جیتنے والے امیدوار کے علاوہ دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار مختصر سی تقریر بھی کرتے ہیں۔

بی بی سی ہر بار کی اس بار بھی الیکشن کے نتائج کی خصوصی ٹرانسمیشن کا انعقاد کر رہا ہے اور اس بار الیکشن ٹرانسمیشن کے معروف میزبان ڈیوڈ ڈیبلی اپنے کیرئیر کی دسویں الکشن ٹرانسمیشن کی میزبانی کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں