’صدام کی پھانسی پر امریکی فوجی بھی روئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی سکیورٹی پر مامور 12 امریکی فوجی ان کی زندگی کے بہترین دوست تو نہ تھے تاہم وہ ان کے آخری ایام میں بہترین ساتھی رہے۔

یہ 551 ملٹری پولیس کمپنیوں سے منتخب ہوئے تھے اور انھیں 'سپر 12‘ کہا جاتا ہے۔

ان محافظوں میں سے ایک ول بارڈنورپر تھے جنھوں نے 'دی پرزنر اِن ہز پیلس' (The prisoner in his palace) کتاب لکھی۔ جس میں انھوں نے صدام حسین کی زندگی کے آخری دنوں کے بارے میں لکھا۔

بارڈنورپر کا کہنا ہے کہ جب صدام حسین کو پھانسی دینے والے اہلکاروں کے سپرد کیا جا رہا تھا تو ان کے تمام محافظوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

اپنے ایک ساتھی ایڈم فوگرسن کا حوالہ دیتے ہوئے کتاب کے مصنف ول بارڈنور نے لکھا کہ ہم نے صدام کو کبھی بھی نفسیاتی مریض اور قاتل کے طور پر نہیں دیکھا ہم اسے گرینڈ فادر کے طور پر دیکھتے تھے۔

عراق کے سابق صدر صدام کو اپنے 148 مخالفین کے قتل کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔

صدام تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ کہتے ہیں کہ صدام اپنے آخری دنوں میں امریکی گلوکار میرے جے بلیزرڈ کے گانے سنا کرتے تھے۔ وہ اپنی قیمتی ایکسرسائز بائیک جسے وہ 'پونی' کہتے تھے پر بھی بیٹھا کرتے تھے۔

وہ میٹھا کھانے کے بہت شوقین تھے اور ہر وقت انھیں مفرد کھانے کا دل کرتا تھا۔

بارڈنورپر کہتے ہیں کہ آخری ایام میں صدام کا دوسروں کے ساتھ رویہ بہت نرم تھا اور انھوں نے یہ تاثر نہیں چھوڑا کہ وہ بہت ظالم حکمران تھے۔

کاسترو نے سکھایا کہ سگار کیسے پیتے ہیں؟

صدام، کاسترو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صدام کو سگار پینے کا بہت شوق تھا جسے وہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انھیں سگار کا استعمال فیڈل کاسترو نے سکھایا تھا۔

انھیں باغبانی کا بھی بہت شوق تھا۔ وہ اپنے قید خانے کے گرد موجود بکھری ہوئی جھاڑیوں کو خوبصورت پھولوں کے طور پر لیتے تھے۔

صدام اپنی خوراک کے حوالے سے بھی بہت حساس تھے۔

ناشتے میں پہلے آملیٹ، پھرمفنز اور پھر تازہ پھل کھاتے تھے لیکن اگر آملیٹ کہیں سے بھی ٹوٹ جاتا تو وہ اسے کھانے سے انکار کر دیتے تھے۔

بارڈنورپر کہتے ہیں کہ صدام نے ایک بار اپنے بیٹے کے حوالے سے ایک واقعہ سنایا۔

صدام حسین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک دن صدام کے بیٹے ادے کی پارٹی میں بہت سے لوگ زخمی اور ہلاک ہو گئے۔ صدام نے غصے میں حکم دیا کہ ادے کی تمام گاڑیوں کو آگ لگا دی جائے۔

صدام کہتے تھے کہ انھوں نے بیٹے کی تمام قیمتی گاڑیوں جن میں فراری، پورشے بھی شامل تھیں کو جلائے جانے کے مناظر دیکھے۔

ایک بار ایک امریکی سپاہی جو کہ صدام کی حفاظت پر مامور تھے نے انھیں اپنے بھائی کی موت کے بارے میں بتایا تو جواب میں صدام نے کہا کہ 'تم مجھے آج سے اپنا بھائی سمجھو۔'

انھوں نے ایک دوسرے محافظ سے کہا کہ اگر مجھے میرے اپنے پیسے کو استعمال کرنے کی اجازت ملے تو میں تمھارے بیٹے کی تعلیم کے اخراجات ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔

صدام حسین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مصنف کا کہنا ہے کہ ایک شب ہم نے دیکھا کہ ایک 20 سالہ سپاہی ڈوسن اپنے سائز سے بڑا سوٹ پہن کر گھوم رہا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس نے صدام حسین کی جانب سے تحفے میں دیا گیا سوٹ پہن رکھا تھا۔

بارڈنورپر لکھتے ہیں کہ بہت دن تک ہم ڈوسن کا مذاق اڑاتے رہے لیکن اس نے پھر بھی سوٹ پہنے رکھا اور جب وہ چلتا تھا تو ایسے لگتا تھا کہ وہ فیشن شو میں کیٹ واک کر رہا ہے۔

اگرچہ صدام کے محافظوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس سے قریب نہ جائیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا محافظوں کی صدام سے دوستی بڑھتی گئی۔

صدام حسین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مقدمے کے دوران صدام حسین کو دو جیلوں میں رکھا گیا تھا۔

پہلی جیل بغداد میں موجود انٹرنیشنل ٹریبونل کا تہہ خانہ اور دوسری شمالی بغداد میں موجود ان کا محل تھی۔ یہ محل ایک جزیرے پر تھا جس تک پہنچنے کے لیے پل کا استعمال کیا جاتا تھا۔

بارڈنورپر کہتے ہیں کہ ہم نے صدام کو اس سے زیادہ نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے لیکن ہم نے کبھی بھی ان کی تضحیک نہیں کی۔'

سٹیو ہٹکنسن اور کرس ٹاسکر سمیت دیگر محافظوں نے سٹور روم کو صدام کا دفتر بنانے کی کوشش کی اور منصوبہ یہ تھا کہ صدام کو 'سرپرائز' دیا جائے۔

سٹورروم میں پڑے سامان سے چمڑے کی ایک کرسی اور ایک چھوٹی سی میز کو نکالا اور میز پر ایک چھوٹا سا جھنڈا رکھا دیا گیا۔

یہ سب اس لیے کیا گیا تاکہ ہم آفس کا ایک ماحول پیدا کر سکیں ا ور جیسے ہی صدام کمرے میں داخل ہوئے ایک سپاہی نے میز کی گرد صاف کرنی شروع کر دی۔

یہ دیکھ کر صدام اونچی آواز میں ہنسنے لگے اور کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کی سکیورٹی پر مامور سپاہی ان کے سامنے موجود کرسی پر بیٹھ گیا۔ یہ منظر ایسا تھا جیسے صدام عدالت میں موجود ہیں۔

صدام حسین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بارڈنورپر کہتے ہیں کہ سپاہیوں کی یہی کوشش تھی کہ صدام کو خوش کیا جائے۔ جواب میں صدام بھی ان کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے اور ماحول کو خوشگوار رکھتے تھے۔

بہت سے سپاہیوں نے بعد میں بارڈنورپر سے کہا کہ 'انھیں اس بات پر پورا یقین تھا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ برا ہوتا تو صدام ان کے لیے اپنی زندگی کی پرواہ بھی نہ کرتے۔'

جب بھی صدام کو وقت ملتا تھا تو وہ سپاہیوں سے پوچھتے تھے کہ ان کے خاندان کی حفاظت کون کرتا ہے۔

اس کتاب کا سب سے حیران کن حصہ وہ ہے جس میں بتایا گیا کہ امریکہ کا دشمن سمجھے جانے والے صدام کی موت پر سپاہی بہت غمگین ہوئے۔

ان سپاہیوں میں شامل ایڈم روتھرسن نے بارڈنورپر کو بتایا کہ 'جب صدام کو پھانسی دے دی گئی، ہمیں لگا ہم نے اسے دھوکہ دیا ہے۔ ہم خود کو قاتل تصور کرتے تھے۔ ہمیں لگا جیسے ہم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا ہے جو ہمارے بہت قریب تھا۔'

جب صدام کو پھانسی دے دی گئی اور ان کی لاش کو باہر لایا گیا تو باہر موجود ہجوم میں شامل لوگوں نے ان پر تھوکنا شروع کر دیا اور انھیں گالیاں دینے لگے۔

صدام حسین تصویر کے کاپی رائٹ COLLECTIVE ROMEO GACAD

بارڈنورپر لکھتے ہیں 12 میں سے ایک نے کوشش کی کہ وہ ہجوم کو ایسا کرنے سے روکے تاہم ان کے ساتھیوں نے اسے واپس کھینچ لیا۔ ایک اور سپاہی سٹیو ہچنسن نے امریکی فوج سے استعفیٰ دے دیا۔

سٹیو اس وقت جارجیا میں اسلحے سے متعلق ٹریننگ دیتے ہیں۔ سٹیو کے مطابق انھیں کہا گیا تھا کہ وہ صدام کی لاش کی بے حرمتی کرنے والوں سے نہ الجھیں۔

مصنف کا کہنا ہے کہ اپنے آخری ایام میں صدام کو توقع تھی کہ انھیں پھانسی نہیں دی جائے گی۔

بارڈنور تصویر کے کاپی رائٹ WILL

30 دسمبر 2006 کو صدام حسین کو صبح تین بجے اٹھایا گیا۔ انھیں بتایا گیا کہ انھیں کچھ ہی دیر میں پھانسی دے دی جائے گی۔

صدام کو مایوسی ہوئی۔ وہ خاموشی سے جا کر نہائے اور پھانسی کے لیے خود کو تیار کرنے لگے۔

صدام حسین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اپنی پھانسی سے کچھ ہی دیر پہلے صدام نے سٹیو کو باہر بلایا اور اپنی کلائی پر بندھی گھڑی اسے دے دی۔

اب بھی جارجیا میں سٹیو کے گھر میں وہ گھڑی محفوظ ہے اور اس کی ٹک ٹک سنائی دیتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں