برطانوی انتخابات: ٹریزا مے کا نئی حکومت بنانے کا اعلان

مے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ کنزرویٹو اور ڈی یو پے مل کر کام کریں گے

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اعلان کیا ہے کہ وہ حالیہ انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے باوجود نئی حکومت بنا رہی ہے۔

ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے حوالے سے اہم مذاکرات دس روز بعد مقرر کردہ وقت پر ہی شروع ہوں گے۔

24 پاکستانی اور انڈین نژاد سیاستدان دارالعوام میں

برطانوی انتخابات کے نتائج کا نقشہ

معلق پارلیمان کی تشکیل کے بعد کیا ہو گا؟

ان کا کہنا تھا کہ وہ شمالی آئرلینڈ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے ساتھ خاص طور پر کام کریں گی۔

دوسری جانب ڈی یو پی کی رہنما ارلین فوسٹر نے کہا ہے کہ انھوں نے کنزرویٹیوز کے ساتھ بات چیت کی حامی بھر لی ہے جس میں موجودہ وقت میں برطانیہ میں استحکام قائم رکھنے کی راہ تلاش کی جائے گی۔

ڈی یو پی کی جانب سے جاری کردہ مختصر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت پورے برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے مفادات کے بارے میں فکرمند ہے۔

تاہم اس بارے میں واضح نہیں کہ ڈی یو پی ٹزیزا مے کی حکومت کو کیا مدد فراہم کرے گی اور اس کے مطالبات کیا ہوں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم ٹریزا مے نے دارالعوام میں اکثریت کا ملنے کے باوجود بکنگھم پیلس میں ملکہِ برطانیہ سے حکومت سازی کے لیے اجازت طلب کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ڈی یو پی کی رہنما ارلین فوسٹر نے کہا ہے کہ انھوں نے کنزرویٹیوز کے ساتھ بات چیت کی حامی بھر لی ہے

اطلاعات کے مطابق ٹریزا مے کی بکنگھم پیلس میں ملکہ کے ساتھ ملاقات 20 منٹ جاری رہی۔ ملاقات کے بعد وہ واپس ڈاؤننگ سٹریٹ روانہ ہو گئیں جہاں انھوں نے پریس بریفنگ میں کہا کہ وہ حکومت سازی کر رہی ہیں اور ان کی حکومت بے یقینی کو ختم کرے گی اور ملک کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرے گی۔

ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ کنزرویٹو اور ڈی یو پے مل کر کام کریں گے اور کئی سالوں سے دونوں جماعتوں کے خاص تعلقات ہیں۔

ٹریزا مے نے وعدہ کیا کہ وہ دس روز میں شروع ہونے والے بریگزٹ مذاکرات میں ملک کے مفادات کا تحفظ کریں گی اور برطانوی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالیں گی۔

ان کو امید ہے کہ شمالی آئر لینڈ کے ڈیموکریٹک یونینسٹ (ڈی یو پی) ان کی حمایت کریں گے۔

اس وقت صرف ایک نشست کا نتیجے کا اعلان ہونا باقی رہ گیا ہے۔ کنزرویٹو جماعت 326 نشستوں سے آٹھ کم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹریزا مے نے بکنگھم پیلس میں ملکہ برطانیہ کے ساتھ ملاقات کی

لیبر جماعت کے سربراہ جیریمی کوربن نے ٹریزا مے سے کہا تھا کہ وہ حکومت سازی سے دستبردار ہو جائیں اور لیبر جماعت حکومت سازی کے لیے تیار ہے۔

جبکہ لبرل ڈیموکریٹک رہنما ٹم فیرن کا کہنا تھا کہ انھیں 'شرمندہ ہونا چاہیے' اور 'اگر ان میں ایک اونس بھی اپنی عزت ہے تو' انھیں مستعفی ہونا چاہیے۔

ٹریزا مے نے جب انتخابات کا اعلان کیا تھا اس وقت کے مقابلے میں اب انھیں 12 نشستیں کم حاصل ہوئی ہیں اور انھیں حکومت سازی کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔

توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ کنزرویٹیو جماعت کو 319 نشستیں حاصل ہوں گی جبکہ لیبر پارٹی کو 261، سکاٹش نیشنل پارٹی کو 35 اور لبرل ڈیموکریٹس کو 12 اور ڈی یو پی کو 10 نشستیں ملی ہیں۔

کنزرویٹیو اور ڈی یو پی کے اتحاد سے ان کی کل دارالعوام میں کل نشستیں 329 ہو سکتی ہیں۔

ٹزیرا مے نے کہا ہے کہ ملک کو 'استحکام' کی ضرورت ہے جبکہ دس روز بعد بریگزٹ کے حوالے سے مذاکرات کا آغاز ہونے والا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی بریگزٹ کی حمایت کرتی ہے

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹریزا مے ڈی یو پی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ غیررسمی طور پر معاملات طے کریں گی۔

ادھر لیبر پارٹی نے انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں 29 اضافی نشستیں جیتنے کے بعد کہا تھا کہ وہ اقلیتی حکومت بنانے کے لیے ہیں۔

لیکن اگر وہ ایس این پی، لبرل ڈیموکریٹس، گرین پارٹی اور پلائیڈ کیمری کے اتحاد میں شامل بھی ہو جاتی ہے تو ان کی کل نشستوں کی تعداد 313 بنتی ہے جو مطلوبہ اکثریت 326 سے کم بنتی ہے۔

دوسری جانب ڈی یو پی کے رہنما ملاقات کر رہے ہیں جنھیں اس نے 'بے ترتیب' صورتحال کے بارے میں بحث قرار دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں