برطانوی انتخابات: پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی

پاؤنڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یورو کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر میں 1.4 فیصد کمی کے بعد یہ 1.1386 تک پہنچ گیا ہے

برطانیہ میں عام انتخابات میں معلق پارلیمان کے نتائج سامنے آنے کے بعد برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔

برطانوی کرنسی پاؤنڈ سٹرلنگ کی قدر میں گذشتہ رات سے کمی شروع ہوئی اور اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں 1.7 فیصد کمی کے بعد اس کا ریٹ 1.2737 ڈالر تک گر گیا ہے جبکہ ملک کی بے سیاسی صورتحال میں بے یقینی سے سٹاک مارکیٹس میں بھی پریشانی کا عالم ہے۔

معلق پارلیمان کی تشکیل کے بعد کیا ہو گا؟

برطانوی انتخابات کے نتائج کا نقشہ

یورو کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر میں 1.4 فیصد کمی کے بعد یہ 1.1386 تک پہنچ گیا ہے۔

تاہم ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی اور یہ 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 7,508.47 تک پہنچ گیا۔

پاؤنڈ کی قدر میں کمی کا اثر عام طور پر ایف ٹی ایس سی 100 انڈیکس میں تیزی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے کیونکہ بیشتر کمپنیاں بیرون ملک کاروبار کر رہی ہیں۔ پاؤنڈ کی قدر میں کمی کا مطلب یہ بھی ہے کہ بیرون ملک حاصل ہونے والے منافعے کو جب پاؤنڈ سٹرلنگ میں تبدیل کیا جاتا ہے تو اس کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔

بین الاقوامی کمپنیاں جیسا کہ گلیکسو سمتھ کلین اور ڈائیگو کی حصص میں سب سے زیادہ تیزی دیکھی گئی اور اس میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاؤنڈ کی قدر میں کمی کا اثر عام طور پر ایف ٹی ایس سی 100 انڈیکس میں تیزی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے

لیکن وہ کمپنیاں جو برطانیہ میں کاروبار کرتی ہیں یہ انتخابی تنائج سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

ہاؤس بلڈرز کی حصص میں پانچ فیصد کمی جبکہ ریٹیل کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے یہ بے یقینی کی یہ صورتحال صارفین کی خرچ کرنے کی طاقت کو مزید کم کر سکتی ہے۔

تاجر ٹریزا مے کی کنزرویٹیو پارٹی کی واضح کامیابی کی امید کر رہے تھے تاہم اب انھیں سیاسی بے یقینی کے بارے میں خدشات ہیں۔

انتخابی نتائج کے مطابق کنزرویٹیو پارٹی اب بھی سب سے بڑی جماعت ہے تاہم اسے حکومت بنانے کے لیے چند مزید نشستیں درکار ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں