قطر تاریخی طور پر بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی مالی معاونت کرتا رہا ہے: ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ تاریخی طور پر بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی مالی معاونت کرتا آ رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں رومانیہ کے صدر سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی ملک کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ مالی معاونت کو فوری طور پر روک دے۔

انھوں نے اس کے ساتھ خطے کے دوسرے ممالک پر زور دیا کہ وہ نفرت کے درس کو روکیں اور دہشت گردی کے حمایتی نظریات کو ختم کریں اور ایسا جلدی کریں۔

٭ قطر کے خلاف اقدامات سعودی عرب کے دورے کا نتیجہ: ٹرمپ

٭’قطر اپنی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرے گا‘

٭ قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہات

خیال رہے کہ اس بیان سے چند دن پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی وجہ سے ہی خطے میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزام میں قطر پر اس کے ہمسایہ ممالک نے دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق ان کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور حالیہ واقعات ہو سکتا ہے کہ دہشت گردی کے خوف کے خاتمے کی ابتدا ہو۔

امریکی صدر کے اس بیان سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ قطر کے ناکہ بندی میں نرمی کریں۔

انھوں نے کہا کہ ناکہ بندی کی وجہ سے نہ صرف خوراک کی قلت کا سامنا ہے بلکہ اس سے قطر میں زبردستی خاندانوں کو الگ کیا جا رہا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے اس کےساتھ کہا کہ ناکہ بندی کے نتیجے میں خطے میں امریکی کارروائیوں اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف لرائی میں رکاؤٹ پیدا ہو رہی ہے۔

سعودی عرب اور قطر میں تنازع کی وجہ سے تیل کی قیمتوں، آمدورفت اور قطر میں اشیا کی قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر ٹرمپ کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے بعد سعودی عرب نے قطر کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا تھا

پیر کوسعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔چھ عرب ممالک نے الزام لگایا ہے کہ قطر اخوان المسلمون کے علاوہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔

دو دن پہلے قطر نے عندیہ دیا تھا کہ متعدد عرب ممالک کے ساتھ جاری کشیدگی پر وہ اپنی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق قطر کے وزیر خارجہ شیض محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ وہ بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے سفارتی کاری کو ترجیح دیں گے اور اس مسئلے کا کوئی عسکری حل موجود نہیں ہے۔

اسی بارے میں