میں کومی پر حلفیہ بیان دینے کو تیار ہوں: صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رومانیہ کے صدر کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے حلفیہ بیان دینے کی بات کی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کے سابق سربراہ جیمز کومی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں وہ حلفیہ طور پر بتانے کے لیے '100 فیصد' رضامند ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے جیمز کومی سے وفاداری کے عہد مانگنے یا وائٹ ہاؤس کے ایک سابق اہلکار کے متعلق جانچ کو ختم کرنے والی بات کی تردید کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'ہم نے جو باتیں کہیں ان میں سے بہت سی باتوں کی جیمز کومی نے تصدیق کی ہے اور کچھ باتیں جو انھوں نے کہیں ہیں وہ سچ نہیں۔'

٭ ٹرمپ کے وکیل نے کومی کے الزمات مسترد کر دیے

٭ 'صدر نے کومی سے وفاداری کا عہد نہیں مانگا تھا'

دریں اثنا کانگریس کے ایک پینل نے ان کی بات چیت سے متعلق اگر کوئی ٹیپ ہے تو اس کا مطالبہ کیا ہے۔

جیمز کومی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انھیں عہدے سے روس کے متعلق جاری جانچ کے سبب ہٹایا ہے۔

سابق ایف بی آئی سربراہ کریملن کی جانب سے گذشتہ سال امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کو مسٹر ٹرمپ کے حق میں لانے کے مبینہ منصوبے کی جانچ کر رہے تھے کہ آیا مسٹر ٹرمپ یا ان کی انتخابی مہم کے سٹاف اس سازش میں شامل تو نہیں تھے۔

جمعرات کو جیمز کومی نے کانگریسی سطح کی کمیٹی کے ایک رکن کے سامنے بیان دیا ہے جو کہ روسی دعوؤں کی جانچ کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جیمز کومی نے روس کے متعلق جانچ میں سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے حلفیہ بیان دیا

انھوں نے کہا کہ صدر نے ان پر قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن کے متعلق جانچ کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ بعد میں صدر ٹرمپ نے ماسکو کے سفیر کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس کو گمراہ کرنے کے لیے انھیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

اپنے حلفیہ بیان میں ایف بی آئی کے سابق سربراہ نے سینیٹ انٹلیجنس کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ صدر نے وائٹ ہاؤس کے ایک عشائیے میں ان سے وفاداری کی قسم کھانے کو کہا تھا۔

اس دھماکہ خیز شہادت کو دیکھنے کے لیے دو کروڑ امریکیوں نے اپنے ٹی وی سیٹ کو آن کر رکھا تھا۔

جمعے کی سہ پہر رومانیہ کے صدر کے ساتھ روز گارڈن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے جیمز کومی کے دعووں کو مسترد کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ایف بی آئی کے سابق سربراہ کی گواہی سے پتہ چلتا ہے کہ 'کوئی ساز باز نہیں تھی کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔' جیمز کومی نے سینیٹرز کو بتایا کہ انھوں نے صدر کو یقین دلایا کہ وہ بذات خود روس کے متعلق جانچ میں نہیں ہیں۔

امریکہ کے ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا وہ اس کے متعلق اپنا حلفیہ بیان دے سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جیمز کومی کے حلفیہ بیان کو تقریبا دو کروڑ امریکیوں نے دیکھا

اس کے جواب میں مسٹر ٹرمپ نے کہا 'صد فیصد۔'

انھوں نے کہا: 'میں اس شخص (کومی) کو بہ مشکل ہی جانتا ہوں۔ میں اس سے کیسے کہہ سکتا کہ تم میری وفاداری کی قسم کھاؤ۔

'ایسا کون کرے گا؟ کون ایسے شخص سے حلفیہ وفاداری کی قسم کھلوائے گا؟ میرا مطلب ہے کہ ایسا سوچے گا۔

'میں اسے بہ مشکل ہی جانتا ہوں۔ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس مسٹر کومی سے بات چیت کا کوئی ٹیپ ہے جیسا کہ انھوں نے پہلے اشارہ کیا تھا تو انھوں نے کہا کہ اس بارے میں وہ بعد میں بات کریں گے۔

انھوں نے کہا: 'میں اس کے بارے میں آپ کو کوئی چیز شاید مستقبل قریب میں بتاؤں گا۔ میں اس کے بارے میں جلد ہی بتاؤں گا۔ میں کسی جانب اشارہ نہیں کر رہا ہوں۔'

پریس کانفرنس کے فورا بعد انٹلیجنس کمیٹی میں شامل رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس سے ایسے کسی ٹیپ کی موجودگی کے بارے میں دریافت کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سینیٹ کمیٹی نے کسی ٹیپ کی موجودگی میں اسے ان کے سامنے جمع کرانے کی بات کہی ہے

پینل نے یہ درخواست کی کہ اگر کوئی ٹیپ ہے تو اسے 23 جون تک ان کے پاس جمع کیا جائے۔

سینیٹ کی عدلیہ کمیٹی نے گذشتہ ماہ ایسے کسی ٹیپ کے بارے میں وائٹ ہاؤس پوچھا تھا۔

نو مئی کو جیمز کومی کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کے کئی روز بعد صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا: 'اس سے قبل کہ وہ پریس میں کچھ ظاہر کرنا شروع کریں جیمز کومی یہ امید کریں کہ ہماری بات چیت کا کوئی ٹیپ نہ ہو۔'

ٹرمپ نے جمعے کو ٹویٹ کیا کہ انھیں سماعت کے بعد 'مکمل نجات' کا احساس ہوا۔

جیمزکومی نے سینیٹرز کو یہ بھی بتایا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے مشمولات کا ذکر اپنے ایک دوست سے کیا ہے اور اس نے ان باتوں کو ایک صحافی کو بتا دیا ہے۔

گواہی کے بعد صدر ٹرمپ کے وکیل نے جیمز کومی پر 'مخصوص بات چیت' کو افشا کرنے کا الزام لگایا۔

اسی بارے میں