لندن حملے میں ٹرک استعمال کرنے کا منصوبہ تھا: پولیس

تصویر کے کاپی رائٹ Met police

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ لندن برج پر حملہ کرنے والوں نے ساڑھے سات ٹن وزنی گاڑی کو حملے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی تاہم تینوں حملہ آور اسے خریدنے کے لیے تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے تھے۔

لندن حملہ آوروں میں سے ایک پاکستانی نژاد خرم بٹ تھے

صدر ٹرمپ کی لندن کے میئر صادق خان پر پھر تنقید

پولیس کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کے بعد انھوں نے ایک چھوٹی وین کو حملے میں استعمال کرنے کے لیے منتخب کیا۔

خیال رہے کہ سات روز قبل ایک شخص نے لندن برج پر چلنے والے راہگیروں پر ایک سفید رنگ کی وین کے ذریعے چڑھائی کر دی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان تینوں حملہ آوروں نے اپنی کلائیوں کے گرد 12 انچ کے چاقو باندھ رکھے تھے اور ان کی وین میں پیٹرول بم بھی پڑے ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Met police

تین جون کی شب دس بجے سے کچھ ہی دیر قبل ہونے والے ان حملوں میں آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

حملہ آوروں کی شناخت خرم شہزاد بٹ، راشد رضوان اور یوسف زگبہ کے نام سے ہوئی ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کو اب تحقیقات کے سلسلے میں مزید گواہوں کی ضرورت ہے اور اس نے اپیل کی ہے کہ جو کمپنیاں گاڑیاں کرائے پر دیتی ہیں وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کے بارے میں اطلاع کریں۔

سنیچر کی صبح پولیس نے بتایا کہ انھوں نے ایک 27 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے جو مشرقی لندن میں حملے کی تیاری کر رہا تھا۔

گرینچ کے وقت کے مطابق صبح دو بجکر پانچ منٹ پر پولیس نے ایک 28 سالہ شخص کو گرفتار کیا جن کی رہائش بارکنگ میں تھی اور ان پر بھی شبہ ہے کہ وہ بھی دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Met police

لندن حملہ آوروں کے بارے میں مزید تفصیل بتاتے ہوئے پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے بارکنگ میں ایک فلیٹ بھی کرائے پر لے رکھا تھا جسے وہ سیف ہاؤس کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

پولیس کو وہاں سے پیٹرول بم بنانے کا سامان، نقلی خودکش جیکٹ بنانے کی چیزیں اور لندن حملہ آوروں میں سے ایک راشد رضوان کا شناختی کارڈ بھی ملا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہاں سےقرآن مجید کا ایک نسخہ بھی ملا ہے جس میں شہادت کے حوالے سے آیات کا صفحہ کھلا ہوا تھا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 27 سالہ بٹ اس گروہ کا سربراہ تھا۔ جس نے حملے کی صبح رومفرڈ میں واقع بی اینڈ کیو نامی سٹور سے وین کرائے پر لی۔

بتایا گیا ہے کہ لندن بریج پر جب شب دس بجے سے دو منٹ قبل حملہ ہوا تو وین اس وقت لندن بریج کو کراس کرتے ہوئے جنوب کی طرف جا رہی تھی۔ اس کے چھ منٹ بعد وہ واپس آئی اور پھر یو ٹرن لے کر شمال کی طرف مڑ گئی۔

حملہ تب شروع ہوا جب وین نے راہگیروں پر چڑھائی کر دی۔

پھر اس کے بعد حملہ آوروں نے لندن بریج کی محالف سمت میں موجود بیرو بوائے اور بینکر نامی پبز کی راہ لی اور وین سے اترنے سے قبل کچن میں استعمال ہونے والی چھریاں باہر نکالیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے یہ ہتھیار اس لیے استعمال کیے کیونکہ وہ میٹل ڈیٹیکٹر سے بچنا چاہ رہے تھے۔

انھوں نے وہاں پہنچ کر ریسٹورنٹس اور پبز میں موجود پانچ افراد پر حملہ کیا۔

حملے کے دو منٹ کے اندر پولیس کو اطلاع دی گئی اور وہ آٹھ منٹ بعد وہاں موجود تھی۔

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ حملہ اوروں کو 46 گولیوں کی بوچھاڑ سے ہلاک کرنا 'غیر معمولی' تھا۔

صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کمانڈر ڈین ہیدان نے بتایا کہ میٹرو پولیٹن پولیس نے غیریقینی طور پر بہت بہادری کا مظاہرہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Met police

انھوں نے چار ایسے افراد کا حوالہ بھی دیا جنھوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا اور حملہ آوروں سے لڑائی کی اور زحمیوں کی مدد کی۔

  • ریسٹورنٹ کے اندر موجود ایک ڈاکٹر نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے باہر نکل کر ایک زخمی کی مدد کی۔
  • ایک پبلک ریلیشن آفیسر نے زخمی حالت میں موجود ایک شخص کو ابتدائی طبی امدا فراہم کی۔
  • ریسٹورنٹ میں موجود ایک ملازم نے حملہ آوروں کے خلاف اس وقت مزاحمت کی جب وہ ایک خاتون پر حملہ کر رہے تھے۔
  • ایک پولیس افسر جو وہاں موجود تھے تاہم ڈیوٹی پر نہیں تھے اس وقت زخمی ہوگئے جب انھوں نے حملہ آوروں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی۔

اب بھی برطانوی پولیس کی جانب سے وسیع پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں اور سنیچر تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پولیس نے 20 افراد کو گرفتار کیا اور 13 عمارتوں کی تلاشی لی۔

اب تک 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے 282 عینی شاہدین سے پوچھ گچھ ہوئی ہے اور پولیس چاہتی ہے کہ مزید عینی شاہدین بھی بنایات دیں۔

وین کے اندر سے پولیس کو شراب کی خالی بوتلیں ملیں جو آتشیں مائع سے بھری ہوئی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2016 میں بٹ کو بینک فراڈ میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم ان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

پولیس نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق ہاٹ لائن پر بٹ کے بارے میں ایک کال بھی موصول ہوئی تھی تاہم کوئی بھی ثبوت نہیں دیا گیا تھا کہ وہ حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں