پاکستان اور افغانستان کا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نظام پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شنگھائی تعاون کونسل کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں پاکستان اور انڈیا کو مکمل رکنیت دی گئی

پاکستان اور افغانستان میں حالیہ کشیدہ تعلقات کے پس منظر میں افغان صدر اور وزیر اعظم پاکستان کی ملاقات ہوئی ہے جس میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائیوں کی تصدیق کے لیے ایک نظام کی تشکیل پر اتفاق ہوا ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے جاری ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے درمیان یہ ملاقات سنیچر کو قزاقستان کے شہر آستانہ میں شنگہائی تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں ہوئی۔

اس ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق رائے ہوا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں سے ایک دوسرے ملک کو آگاہ رکھنے کے باہمی رابطوں اور چہار ملکی رابھ گروپ کو استعمال کیا جائِے گا۔

پاکستانی وزیر اعظم نے گزشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے ٹرک بم حملے کی مذمت کی جس میں سو کے قریب سو سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغانستاں میں امن اور استحکام کا خوہاں ہے اور اس کے لیے تعاون فراہم کرتا رہے گا۔

یاد رہے کہ کابل میں حالیہ دہشت گردی کی واردات کے بعد پاکستان کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ڈاکٹر اشرف غنی کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

نواز شریف اور ڈاکٹر اشرف غنی کے درمیان یہ ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی اور پاکستان کی طرف سے اس ملاقات میں وزیر اعظم پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے بھی شرکت کی۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق نواز شریف نے افغانستان میں پاکستانی طالبان کی موجودگی کے بارے میں بھی اپنی تشویش سے افغان صدر کو ایک مرتبہ پھر آگاہ کیا۔

خطے میں دہشت گردی کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور جن میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔

نواز شریف نے افغان صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے اندر دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

پاکستان پر کابل حکومت کی طرف سے افغان مسلح گروہ حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں موجودگی اور اس کی مبینہ پشت پناہی کے حوالے سے بھی الزامات لگائے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف اور ولادمیر پوتن کی ملاقات

اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر اعظم نے افغان صدر سے کہا کہ حقانی نیٹ کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں اگر افغان حکومت کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ پاکستان کو پیش کیے جائیں۔ط

شنگھائی تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان اور روسی صدر ولادمیر پوتن کی بھی دو طرفہ ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں ملکوں میں بڑھتے ہوئے تجارتی روابط پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور ان روابط کو مستکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شنگہائی تعاون کونسل میں اس برس پاکستان اور انڈیا کو بھی مکمل رکنیت حاصل ہوئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں