سپین کی پبلک ٹرانسپورٹ میں جاری مہم: ’مرد پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مین سپریڈگ لفظ کو دو سال پہلے آکسفورڈ ڈکشنری میں شامل کیا گیا تھا

سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں محکمہ ٹرانسپورٹ نے ان مرد مسافروں کے خلاف خاص مہم چلائی ہے جو سیٹ پر پاؤں پھیلا کر بیٹھتے ہیں۔

میڈرڈ میں بسوں کو منظم کرنے والی بی ایم ٹی نئے سگنل لگا رہی ہے جس میں مردوں کو سیٹ پر پاؤں پھیلا کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔

اسی طرح کی مہم شہر کے سب وے سسٹم میں شروع کیا گیا ہے۔

یہ مہم خواتین کی ایک تنظیم کی اس آن لائن پٹیشن کے بعد شروع کی گئی ہے، جس میں مردوں کو سفر کے دوران سیٹ پر پاؤں پھیلا کر بیٹھنے سے روکنے کے لیے کہا گیا تھا۔

مین سپریڈگ لفظ کو دو سال پہلے آکسفورڈ ڈکشنری میں شامل کیا گیا تھا۔

دنیا کے چار دیگر شہروں میں پہلے ہی اس طرح کی مہم چلائی جا چکی ہے۔

بی ایم ٹی نے بیان میں کہا ہے کہ اس نئے سگنل مقصد مرد مسافروں کو یہ یاد دلانا ہے کہ وہ بس میں سفر کرنے کے دوران تمام مسافروں کا خیال رکھیں اور پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EmT
Image caption میڈرڈ میں بسوں کو منظم کرنے والی بی ایم ٹی نئے سگنل لگا رہی ہے

آن لائن پٹیشن دائر کرنے والے خواتین تنظیم نے کہا ہے کہ پبلک ٹرانسپورسٹ میں یہ عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ خواتین مسافر اپنے پاؤں سمیٹ كر بیٹھتی ہیں اور ان کے لیے سفر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کے ساتھ بیٹھا مرد پاؤں پھیلا کر ان کی جگہ لے لیتا ہے۔

سال 2014 میں نیویارک کے میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے سفر کے دوران پاؤں پھیلا کر بیٹھنے والے مرد مسافروں کے خلاف مہم چلائی تھی۔ شہر کی میٹرو میں جگہ جگہ اشارے لگائے گئے، ’ڈوڈ ... براہ مہربانی پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھیں۔‘

اس کے علاوہ فلاڈیلفیا نے بھی ’ڈوڈ، اٹس روڈ‘ نامی مہم چلائی تھی۔