’مشکوک گفتگو‘ پر طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

ایزی جیٹ تصویر کے کاپی رائٹ PA

سلوینیا سے برطانیہ جانے والی ایک پرواز کے پائلٹ نے اس وقت ہنگامی لینڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جب انھیں خبردار کیا گیا کہ طیارے میں کچھ مسافر مشکوک گفتگو کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس گفتگو میں دہشت گردی کا حوالہ شامل تھا۔

ایزی جیٹ ایئر لائن میں سوار تین افراد کو لینڈنگ کے بعد حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سنیچر کی سہ پہر یہ طیارہ یوبیانہ سے سٹینسٹیڈ جا رہا تھا تاہم اسے جرمنی کے بون ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔

طیارے میں 151 مسافر سوار تھے جنھیں طیارے سے اتار لیا گیا اور پھر فلائٹ میں تین گھنٹے کی تاخیر کی گئی۔

گرفتار ہونے والے تینوں افراد کے سامان کو ایک کنٹرولڈ دھماکے میں تباہ کر دیا گیا۔

ہوائی اڈے کے ترجمان نے طیارے کی لینڈنگ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس سے پہلے، پائلٹ کو طیارے کے اندر مشکوک گفتگو کے بارے میں مطلع کیا گیا، اس کے بعد انھوں نے طیارے کو بغیر شیڈیول کے کولون بون ایئرپورٹ پر اتار لیا۔‘

محفوظ لینڈنگ کے بعد۔۔۔ 151 مسافر ایمرجنسی سلائیڈ کے ذریعے باہر نکلے اورانھیں ٹرانزٹ گیٹ سے باہر نکالا گیا۔

مسافروں کوفوری چیکنگ کے عمل سے گزرنا پڑا جبکہ طیارے کی بھی اضافی تلاشی لی گئی۔

'کنٹرولڈ دھماکہ'

کولون پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ دیگر مسافروں نے جہاز کے عملے کو تین مسافروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا۔

پولیس نے تفصیلات تو نہیں بتائیں تاہم یہ کہا کہ گفتگو میں'دہشت گردی' کے بارے میں بات ہوئی تھی۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ تینوں افراد کا سامان کنٹرولڈ دھماکے کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے۔

ایزی جیٹ کا کہنا ہے کہ پائلٹ نے یہ فیصلہ احتیاط کے پیشِ نظر کیا تاکہ اضافی تلاشی لی جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ باقی تمام مسافروں کو رات گزارنے کے لیے ہوٹل میں جگہ دی گئی جہاں سے وہ اتوار کی صبح واپس جائیں گے۔

’ہم مسافروں کے شکرگزار ہیں۔ ہماری سب سے اہم ترجیح ایزی جیٹ مسافروں اور عملے کی حفاظت ہے۔'

اسی بارے میں