’قطر کے شہریوں کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے روکنے پر تنازع`

مسجد حرام کے درمیان کعبہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption قطر کے ایک اخبار نے ذرائع سے یہ خبر شائع کی ہے کہ قطر کے کچھ لوگوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے

قطر کے چند شہریوں کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے مبینہ طور پر منع کرنے کی خبر پر عربی میڈیا میں بحث جاری ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق دوحہ کے اخبار 'الشرق' نے قطر کے قومی انسانی حقوق کمیشن کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے۔

خیال رہے کہ مسجد الحرام مسلمانوں کا مقدس ترین مذہبی مقام ہے اور حج کی ادائیگی وہاں جائے بغیر نہیں ہو سکتی۔

٭ قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہات

٭ چھ ممالک کا قطر سے سفارتی تعلق ختم کرنے کا اعلان

اخبار کے مطابق قطر کے انسانی حقوق کمیشن کو شکایات ملی ہیں کہ قطر کے کچھ شہریوں کو مسجد الحرام میں جانے سے روکا گیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ علی بن شیخ المری نے اخبار سے کہا کہ’یہ انسانی حقوق کے تحت حاصل مذہبی حقوق کی سخت خلاف ورزی ہے۔‘

جبکہ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ 'قطر کے لوگ شاہ سلمان کے دل میں رہتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ KSAMOFA
Image caption سعودی عرب کی وزارت خارجہ کا ٹویٹ

وزارت خارجہ نے اپنے ٹویٹ لکھا:’ قطر کے لوگ سعودی عرب کے اپنے بھائیوں کی توسیع ہیں۔ شاہ سلمان قطر اور سعودی خاندانوں کے انسانی حقوق کے مسائل کو مشترکہ خاندان کے مسئلے کے طور پر سنتے ہیں۔‘

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایسی شکایات کے ازالے کے لیے ہاٹ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے۔

قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، یمن اور مصر نے قطر پر انتہا پسندی کو فروغ دینے کے الزام لگانے کے بعد اس سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

ان ممالک نے قطر پر سفری پابندیاں بھی لگائی ہیں۔ قطر نے تمام طرح کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان پابندیوں کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption قطر کے لیے زمینی راستہ صرف سعودی عرب سے آتا ہے

ادھر ایران نے اتوار کو قطر کے لیے پھل، سبزیوں والے کئی طیارہ بھیجے ہیں۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مدد انسانی ہمدردی کے تحت کی گئی ہے یا پھر ان دونوں ممالک کے درمیان کوئی تجارتی سمجھوتہ ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں