صدر ٹرمپ کو سفری پابندی پر پھر عدالتی شکست، صدارتی حکم کی معطلی کا فیصلہ برقرار

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY

امریکی اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھ مسلم ممالک کے افراد پر 'سفری پابندی' کے ترمیم شدہ حکم نامے کی معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

ریاست ہوائی کی جانب سے چیلنج کرنے کے بعد یہ قانون نچلی عدالتوں نے یہ کہہ کر معطل کر دیا تھا کہ یہ متعصانہ ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے کے تحت جن ممالک کے افراد پر 90 روز کی سفری پابندی عائد کی جانی تھی ان میں ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ اس حکم نامے کے تحت پناہ گزینوں پر بھی 120 روزہ پابندی عائد کرنے کا کہا گیا تھا۔

٭ حکومتی اپیل مسترد، سفری پابندیوں کی معطلی برقرار

٭ٹرمپ سفری پابندی کی معطلی سپریم کورٹ میں لے گئے

یہ امریکی صدر کی جانب سے اس پابندی کو لاگو کرنے کی کوششوں کو ایک اور قانونی دھچکا ہے۔

ادھر اٹارنی جنرل جیف سیشنز کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کا ایگزیکٹیو حکم نامہ امریکی عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے قانونی طور پر ان کی اتھارٹی میں ہے۔‘

جیف سیشنز نے مزید کہا ہے کہ حالیہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری قوم کو حقیقی خطرہ ہے۔‘

سان فرانسسکو میں دی نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز مارچ میں ہوائی کے وفاقی جج کی جانب سے اس حکم نامے کے کچھ حصوں پر پابندی لگانے کے فیصلے کے خلاف سماعت کر رہی تھی۔

ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’امیگریشن حتہ کہ صدر کے لیے بھی ون پرسن شو نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ سفری پابندی کی فہرست میں شامل چھ ممالک کے افراد اور پناہ گزینوں کے داخلے سے امریکی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔‘

تاہم ججوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’حکومت کو امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کی جانچ کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینا کی اجازت ہے۔‘

انتظامیہ کا یہ موقف ہے کہ امریکہ میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے سفری پابندی کی ضرورت ہے۔

توقع ہے کہ اس تنازع کا فیصلہ امریکی سپریم کورٹ میں ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے کے بعد ملک بھر میں مظاہرے اور احتجاج شروع ہوگئے تھے

خیال رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ ہی وائٹ ہاؤس نے امریکی سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے مسلمان ملکوں پر عائد سفری پابندیوں کے قانون کو بحال کر دے۔

حکومت نے سپریم کورٹ کے نو ججوں سے دو ہنگامی درخواستیں عائد کر کے اپیل کی تھی کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے کو منسوخ کیا جا سکے۔

اس متنازع پابندی کے خلاف امریکہ بھر میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔

وزارتِ انصاف کی ترجمان سارا فلوریس نے کہا: 'ہم نے سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ اس اہم کیس کی سماعت کرے اور ہمیں اعتماد ہے کہ صدر ٹرمپ کا انتظامی حکم نامہ ان کے ملک کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے قانونی دائرۂ اختیار کے اندر ہے۔'

انھوں نے کہا: 'صدر پابند نہیں ہیں کہ وہ ایسے ملکوں سے لوگوں کو آنے کی اجازت دیں جو دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں، تاوقتیکہ وہ اس بات کا تعین کر سکیں کہ ان لوگوں کی مناسب چھان بین ہو اور وہ امریکی سلامتی کے خطرہ نہ بن سکیں۔'

جنوری میں صدر ٹرمپ کا ابتدائی حکم نامہ ابتدائی طور پر ریاست واشنگٹن اور منی سوٹا میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد انھوں نے مارچ میں ایک ترمیم شدہ حکم نامہ جاری کیا جس میں صومالیہ، ایران، شام، سوڈان، لیبیا اور یمن سے لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار پایا تھا۔ اس کے علاوہ تمام پناہ گزینوں کا داخلہ بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ ورجینیا کی ایک عدالت نے بھی حکم نامے کی معطلی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں