القاعدہ کے اندر کی کہانی سیاسی بھی اور خاندانی بھی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
عنبر خیری نے ’دا ایگزائل‘ کے مُصبف ایڈرئین لیوی سے پوچھا:سب سے حیران کُن معلومات کیا تھیں؟

تورا بورا سے فرار اور تقریباً دس سال بعد ایبٹ آباد میں امریکی سپیشل فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے درمیانی عرصے میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کہاں تھے اور اُن پر کیا گزری؟

اس سوال کے جواب میں قیاس آرائیاں بہت ہوئی ہیں اور افواہیں بھی بہت گردش کرتی رہی ہیں لیکن اب ایک نئی کتاب میں القاعدہ کے رہنما کے اِن دس برسوں کی کہانی تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔

’نائن الیون کا ذمہ دار خود امریکہ‘،خالد شیخ کا اوباما کو خط

اسامہ کے پڑوسیوں کی زندگیاں بدل گئیں

’دا ایگزائل‘ نامی کتاب میں نہ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کا ’مطلوب ترین مجرم‘ کہلانے والا شخص کس طرح دنیا سے چُھپا رہا بلکہ یہ بھی کہ اُس کے خاندان اور تنظیم پر اس کا کیا اثر پڑا۔

اس کتاب کے مصنفین کیتھرین سکاٹ کلارک اور ایڈریئن لیوی ہیں جن دونوں کا تحقیقاتی صحافت میں ایک بڑا نام ہے۔ اس کتاب میں بھی اس تحقیقاتی ٹیم نے بہت تفصیل سے معلومات جمع کی ہیں، جن میں خاص اہمیت اس کہانی کے کئی اہم کرداروں سے ان کے انٹرویوز ہیں۔

اہم کرداروں کی گواہی اس کتاب کی خاص بات ہے اور اس میں نہ صرف اسامہ کی کئی بیویوں اور بچوں کے بیانات شامل ہیں بلکہ القاعدہ سے منسلک اہم افراد اور دیگر انٹیلی جنس اہلکاروں کے بھی۔ غالباً یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسامہ بن لادن کے خاندان نے اس دہائی پر کھل کر بات کی ہے۔

تہران کی ایک سڑک کا منظر تصویر کے کاپی رائٹ THE EXILE
Image caption اسامہ بن لادن کی بیوی خیریہ اور ان کے بہت سے بچے سنہ 2010 تک ایران میں رہے

چھ سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں کئی انکشافات شامل ہیں:

  • اسامہ بن لادن کی بیوی خیریہ اور ان کے بہت سے بچے سنہ 2010 تک ایران میں رہے۔ ان کا مقام کبھی مہمان کا ہوتا، کبھی پناہ گزین کا تو کبھی قیدی کا۔
کتاب کا سرورق تصویر کے کاپی رائٹ The EXILE
  • ایران نے 2010 میں اسامہ کے خاندان اور القاعدہ کے اہلکاروں کو صرف اس لیے نکلنے دیا کہ القاعدہ نے پشاور سے ایک ایرانی اہلکار کو اغوا کر لیا تھا اور یہ اس کی رہائی کا سودا تھا۔
  • ایران نے 2003 میں ایک بیک چینل کے ذریعے امریکہ سے اسامہ خاندان کو اس کے حوالے کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن امریکہ نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور اس پیشکش کو رد کر دیا۔ اس وقت امریکہ کی پوری توجہ عراق پر حملے کی تیاریوں پر مرکوز تھی، اور وہ عراق کا القاعدہ سے تعلق دکھانا چاہتا تھا۔
  • اسامہ کے دو بچے ایران کی تحویل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ 2008 میں ان کا بیٹا سعد احاطے کی دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا (بعد میں وہ وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا) اور پھر 2010 میں اسامہ کی 18 سالہ بیٹی ایمان تہران کے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور سے فرار ہو گئیں۔ ایمان نے دکان سے ایک گڑیا کو لے کر اپنے گود میں بچے کی طرح پکڑا، سر پر کپڑا اوڑھا اور سٹور سے نکل کر اس نے سعودی عرب میں اپنے بڑے بھائی کو فون کیا جس نے اسے سعودی سفارتخانے جانے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ ان سے فوراً رابطہ کرے گا۔ ایمان بن لادن پانچ ماہ تک سفارتخانے میں رہیں اور بالآخر وہ اپنے بھائی عمر اور بھابی زیئنہ کی کوششوں کے نتیجے میں نکل سکیں۔ ان کی ماں نجوہ نے (جو اسامہ کی پہلی بیوی تھیں اور جو گیارہ ستمبر کے حملوں سے دو دن پہلے افغانستان سے چلی گئی تھیں) انھیں نو سال کے عرصے کے بعد دیکھا۔
  • القاعدہ کی مرکزی شوریٰ نے گیارہ ستمبر یا 'طیارہ منصوبے' کو منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا اور شوریٰ کے کئی ارکان نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی لیکن اس کی حمایت اور منصوبہ بندی ایک ایسا شخص کر رہا تھا، جو القاعدہ کا رکن تک نہیں تھا، لیکن جس نے ایسے کئی اور منصوبے بنائے۔ بعد میں اسی شخص نے القاعدہ کے مفرور رہنماؤں اور کارکنوں کو کراچی میں کئی فلیٹوں میں بھی رکھا۔
  • اسامہ بن لادن بھی کچھ دن کراچی میں رہے اور ایک چھاپے میں گرفتاری سے بال بال بچے تھے۔
حمید گل تصویر کے کاپی رائٹ The EXILE
  • جنرل حمید گل (آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی اور دفاع پاکستان کونسل کے رہنما) نے سنہ 2005میں اسامہ کو مولانا فضل الرحمان خلیل کے ذریعے ایک پیغام بھجوایا تھا۔ اسامہ اس ملاقات کے لیے ایبٹ آباد سے قبائلی علاقے آئے تھے ۔ (جنرل حمید گل کا ہمیشہ یہ کہنا رہا کہ 'اسامہ تورا بورا کی بمباری میں ہلاک ہو گئے تھے اور امریکی ایک ڈرامہ کرتے رہے ہیں)۔
  • اسامہ بن لادن کے کئی بیٹے سپیشل بچے تھے، یعنی وہ 'اوٹِسٹِک' تھے۔ ان میں سعد بن لادن بھی شامل تھے۔
  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام تفتیش کاروں کو خالد شیخ محمد نے تفتیش میں بہت جلدی دے دیا تھا۔
  • اسامہ بن لادن کی بیویوں کو ان کی بیوی خیریہ پر شک تھا کہ ان کے ایبٹ آباد آنے سے حکام کو اسامہ کا اتا پتا معلوم ہو سکا۔ (خیریہ کی اکلوتی اولاد حمزہ بن لادن اب اسامہ کے جہادی وارث سمجھے جا رہے ہیں، اور شاید ان کے واحد بیٹے ہیں جو اس راہ پرگامزن ہیں)۔
ابو حفس الموریطانی تصویر کے کاپی رائٹ THE EXILE
Image caption صنفین نے ابو حفس الموریطانی سے جو معلومات حاصل کی ہیں اس سے تاریخ کے اس دور کا بہت کچھ پتہ چلتا ہے
  • امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور وفاقی ادارے ایف بی آئی میں تفتیش کے طریقۂ کار پر اختلافات رہے۔ سی آئی اے نے تشدد کو ترجیح دی، خاص طور پر واٹر بورڈنگ کو۔
  • امریکہ کا ایک غیرقانونی حراستی مرکز (رینڈشن سینٹر) تھائی لینڈ میں تھا جہاں ابوزبیدہ کو بھی رکھا گیا۔
  • ابو مصعب الزرقاوی کے بارے میں القاعدہ کی مرکزی شوریٰ کے ارکان اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔ انھوں نے اسے ان پڑھ اور جذباتی سمجھا تھا لیکن افغانستان پر حملے کے بعد جب اعلیٰ قیادت ہلاک یا محدود ہوگئی تو خالد شیخ محمد اور الزرقاوی نے القاعدہ کے نام پر بڑے حملے کروائے جن میں عام شہریوں کی کافی ہلاکتیں ہوئیں۔
اسامہ کا ایبٹ آباد میں مکان تصویر کے کاپی رائٹ THE EXILE
Image caption ابراہیم عرف ابو احمد الکویتی نے تنظیم کے پیسوں سے ایبٹ آباد میں نو پلاٹ خرید کر ان پر مکان بنوایا
  • ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو بسانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کا کوہاٹ سے تعلق تھا اور اس کام پر اسے خالد شیخ محمد نے لگایا تھا۔ ان دونوں کے والدین کی کویت میں ملازمت تھی اور وہیں سے ان کی واقفیت ہوئی تھی۔ ابراہیم عرف ابو احمد الکویتی نے تنظیم کے پیسوں سے ایبٹ آباد میں نو پلاٹ خرید کر ان پر گھر بنوایا۔ کنٹونمنٹ بورڈ نے اس کی کوئی چیکنگ نہیں کی اور نہ ہی کسی نے اعتراض کیا جب مقررہ اونچائی سے زیادہ کی دیوار کھڑی کی گئی۔
  • الکویتی اور اس کا بھائی اسامہ بن لادن اور ان کے خاندان کو سنبھالنے کی ذمہ داری سے اتنا تھک چکا تھا کہ اس نے اسامہ کو اپنا استعفیٰ دے دیا تھا اور دونوں میں سمجھوتہ ہو گیا تھا کہ اسامہ گیارہ ستمبر کے حملوں کی دسویں برسی کے بعد اس گھر سے چلے جائیں گے۔ اس سمجھوتے کو تحریری شکل دے دی گئی تھی۔ اگر اسامہ یہ مہلت حاصل نہ کرتے تو شاید وہ مئی میں ایبٹ آباد سے نکل چکے ہوتے۔
اوسامہ تصویر کے کاپی رائٹ THE EXILE

ان انکشافات کے علاوہ کتاب میں اور بہت سی تفصیلات شامل ہیں جن سے تاریخ کے اس دور اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی اس لڑائی کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوتا ہے اور یہ اُس بیانیے سے ہٹ کر ہے جس کا دعویٰ القاعدہ یا امریکہ کرتے ہیں۔

اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ یہ القاعدہ کے اندر کی کہانی ہے، سیاسی بھی اور خاندانی بھی۔ مصنفین نے خاص طور پر ابو حفس الموریطانی (ابن الولید محفوظ) سے جو معلومات حاصل کی ہیں اس سے تاریخ کے اس دور کا بہت کچھ پتہ چلتا ہے۔

نام کتاب: دا ایگزائل: دا فلائٹ آف اسامہ بن لادن

مصنفین: کیتھی سکاٹ کلارک اور ایڈریئن لیوی

ناشر: بلومزبری

اس مضمون میں شامل تمام تصاویر دا ایگزائل: دی فلائٹ آف اسامہ بن لادن سے لی گئی ہیں جن کے جملہ حقوق مصنفین کے نام محفوظ ہیں۔

اسی بارے میں