جیف سیشنز کا روسی حکام کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں سے انکار

جیف سیشنز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کانگریس میں سماعت کے دوران واشنگٹن دی سی ہوٹل میں روسی حکام کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کو مسترد کر دیا ہے۔

جیف سیشنز نے سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کو یہ بھی کہا کہ ’یہ کہنا کہ انھوں نے روس کے ساتھ مل کر کوئی سازش کی ہے ایک ہولناک جھوٹ ہے۔‘

ان کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب ایک روز قبل ہی ایف بی آئی کے برطرف کیے گئے سربراہ جیمز کومی نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں انھیں روس کے مسلے کو تبدیل کرنے کے لیے ہٹایا گیا۔

جیف سیشنز نے مبینہ روسی مداخلت کے حوالے سے کسی بھی جانچ پڑتال سے انکار کیا ہے۔

سینیٹ کی کمیٹی ان کئی کانگریسی پینل میں سے ایک ہے جو خصوصی کاؤنسل کے ہمراہ اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے کسی اہلکار نے کریملن کے ساتھ مل کر کوئی سازش کی تھی یا نہیں۔

امریکی خفیہ ایجنسیوں کے خیال میں روس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور امریکی صدر منتخب کروانے کے لیے انتخاب میں مداخلت کی تھی۔

منگل کو جیف سیشنز کا کہنا تھا کہ ’میں امریکہ میں انتخاب یا مہم کے دوران مداخلت کے حوالے سے نہ تو کسی روسی یا کسی بھی غیر ملکی اہلکار سے ملا نہ ہی کوئی بات چیت کی ہے۔‘

خیال رہے کہ جیف سیشنز ٹرمپ انتظامیہ کے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے سب سے اعلیٰ رکن ہے۔

جیف سیشنز نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے دوبار روسی سفارت کار سرگئی کیزلیکے سے ملاقات کی تھی۔

انھوں نے کانگریس میں حلف برادری کے دوران جھوٹ بولنے کے دعووں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ انھیں سوال کی جیسی سمجھ آئی اس کے مطابق ان کا صحیح اور مناسب جواب تھا۔‘

اسی بارے میں