لندن کی عمارت میں آتشزدگی سے 12 افراد ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
گرینفل ٹاور میں سینکڑوں افراد رہائش پذیر ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ لندن کے مغربی علاقے شمالی کینسنگٹن میں ایک 24 منزلہ رہائشی عمارت میں آتشزدگی کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حکام کے مطابق آتشزدگی سے متاثر ہونے والے 60 افراد کو ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق کہ عمارت میں پھنسے ہوئے لوگوں کی چیخیں سنی گئی ہیں اور وہ اپنے بچوں کو بچانے کے لیے فریادیں کر رہے تھے۔

ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور ’اس حادثے کے نتیجے میں جو خامیاں سامنے آئیں گی اسے دور کیا جائے گا۔‘

فائر بریگیڈ نے بڑی تعداد میں لوگوں کو عمارت سے نکالا ہے لیکن لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ ابھی تک بڑی تعداد میں لوگ 'لاپتہ' ہیں۔

چوبیس منزلہ عمارت میں آگ بھڑکنے کے دس گھنٹوں بعد بھی ابھی تک آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے اور عمارت کے منہدم ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ آگ لیٹیمر روڈ پر واقع گرینفل ٹاور میں منگل کی شب سوا ایک بجے لگی اور آگ بجھانے والا عملہ کئی گھنٹے سے اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔

گرینفل ٹاور میں سینکڑوں افراد رہائش پذیر ہیں اور واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد افراد کو اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے دیکھا تھا۔

عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے عمارت میں ایسی روشنیاں دیکھی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ موبائل فونز اور ٹارچ کی روشنیاں ہو سکتی ہیں اور پھنسے ہوئے افراد کھڑکیوں سے باہر نکل رہے تھے۔

لندن کے فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق آگ بجھانے کی کوششوں میں چالیس فائر انجن اور عملے کے دو سو ارکان حصہ لے رہے ہیں۔

لندن کی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبع مقامی وقت کے مطابق 6:15 پر ایمبولینس کے 20 رکنی عملے کو موقع پر بھیجا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Natalie Oxford

لندن کے میئر صادق خان نے اسے 'بڑا واقعہ' قرار دیا ہے۔

گریفنل ٹاور کی ساتوں منزل پر رہائش پذیر پال موناکر وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب رہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا 'جب میں سیٹرھیوں سے نیچے اتر رہا تھا تو میں نے فائر فائیٹرز کو دیکھا جو ٹاور کی اوپر والی منازل کی جانب جا رہے تھے اور ان کی کوشش تھی جس طرح بھی ممکن ہو زیادہ سے زیادہ افراد کو عمارت سے باہر نکال لیں۔

پال موناکر نے مزید بتایا کہ وہ آگ لگنے کی وجہ سے الرٹ ہوئے نہ کے فائر الارم سے لیکن نیچے گلی میں بہت سے لوگ جمع تھے جو چیخ رہے تھے کہ 'کودنا مت، کودنا مت۔'

انھوں نے کہا 'ایمانداری کی بات یہ ہے کہ میں یہ نہیں جانتا کہ عمارت سے کتنے لوگوں نے چھلانگ لگائی لیکن میرے لیے اہم بات یہ ہے کہ عمارت میں موجود فائر الارمز نے اپنا کام نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بی بی سی کے نامہ نگار اینڈی مور کا کہنا ہے 'ہم نے عمارت کا ملبہ گرتے ہوئے دیکھا، ہم نے دھماکوں اور شیشے ٹوٹنے کی آوازیں سنیں۔'

لندن فائر بریگیڈ کے اسسٹنٹ کمشنر ڈین ڈالی کا کہنا ہے کہ 'فائر فائیٹرز بہت مشکل حالات میں آگ پر قابو پانے کا مشکل کام کر رہے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بہت بڑا اور سنجیدہ واقعہ ہے اور اس کے لیے ہم نے متعدد ذرائع اور خصوصی آلات کا استعمال کیا ہے۔

چینل فور کے پروگرام امیزنگ سپیسز کے میزبان جارج کلارک نے ’ریڈیو فائیو لائیو‘ کو بتایا کہ ’میں راکھ سے ڈھکا جا رہا ہوں جو کہ بہت برا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں عمارت سے صرف 100 میٹر دور ہوں اور میں راکھ سے ڈھک چکا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عمارت کو میلوں سے جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

’یہ بہت تکلیف دہ منظر ہے۔ میں نے کسی کو دیکھا ہے جو اپنی ٹارچ جلا کر عمارت کے اوپر والے حصے کو دیکھ رہا ہے لیکن وہ باہر نہیں جا سکتا ہے۔‘

ایک عینی شاید ٹم ڈونی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر جل چکا ہے۔ یہ بہت برا ہے، بہت برا لگ رہا ہے۔ میں نے پہلے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا ہے۔ یہ بہت بڑی آگ کی طرح ہے۔‘

صوفیہ جو اس عمارت سے 500 میٹر کے فاصلے پر تھیں، انھوں نے بتایا: 'بہت سے لوگ گلیوں میں جمع ہیں۔ میں آگ کے مزید شعلے اٹھتے دیکھ رہی ہوں اور لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے سن رہی ہوں۔ پوری عمارت جل رہی ہے۔'

کنسنگٹن اور چیلسی کونسل کے مطابق یہ عمارت 24 منزلہ ہے اور اس میں 120 فلیٹس ہیں۔

متعلقہ عنوانات