انڈونیشیا میں 94 سالہ کیلے فروش بزرگ کے لیے عطیات کی بھرمار

انڈونیشیا تصویر کے کاپی رائٹ Facebook: TommyReza Chokolatoz

انڈونیشیا کے شہری کیلے فروخت کرنے والے ایک 94 سالہ بزرگ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔

94 سالہ سورتمین کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد ان سے دس لاکھ انڈونیشین روپیہ (80 ڈالر، 62 پاؤنڈ) سے زائد کی رقم لوٹ کر فرار ہو گئے ہیں۔

سورتمین کا کہنا ہے کہ انھیں ایک ڈرائیور نے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کیلے فروخت کرنے کے لیے رابطہ کیا۔

سورتمین کے مطابق گاڑی میں پہلے سے موجود دو آدمیوں نے انھیں زبردستی اپنی جیبیں خالی کرنے کو کہا جس کے بعد وہ انھیں گاڑی سے باہر دکھیل کر فرار ہو گئے۔

انڈونیشیا کے ایک شہری ٹومی رضا نے پریشان حال سورتمین کی آن لائن ویڈیو پوسٹ کر دی جسے دیکھ کر لوگوں نے ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مالی امداد کرنا شروع کر دی۔

ٹومی رضا کا اپنی پوسٹ میں کہنا کہ انھیں سورتمین نے بتایا کہ وہ چوری ہونے والی رقم سے عیدالفطر کے موقع پر نیا فرنیچر خریدنا چاہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook: Tommy Reza Chokolatoz

یہ واقعہ سماٹرا جزیرے کے صوبے جامبی میں پیش آیا۔

ٹومی رضا نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ انھوں نے سورتمین کو آنسوؤں کے ساتھ روتے ہوئے دیکھا۔

ان کا مزید کہنا تھا ' میں اتفاقاً اس علاقے میں تھا جب میں نے ایک شخص کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے دیکھا۔'

ٹومی رضا نے سورتمین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو فیس بک پر شیئر کیا جس کے بعد ان کے دوستوں نے سورتمین کی مدد سے کے لیے ان سے رابطہ کرنا شروع کیا۔

ٹومی رضا کے مطابق یہ وہی لمحہ تھا جب انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سورتمین کو ان کی رقم واپس دلانے کے لیے عطیات جمع کریں گے۔

انھوں نے بتایا ' جامبی کے علاوہ بیرونی ممالک جیسے کہ ہانگ کانگ اور ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے میرے ساتھ رابطہ کیا اور پوچھا کہ وہ کہاں رقم عطیہ کر سکتے ہیں۔؟'

بہت سے افراد نے اس واقعے کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے تبصرے بھی کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook: TommyReza Chokolatoz

سیلسٹا پریمالیا نے فیس بک پر لکھا 'یہ بہت قابلِ نفرت واقعہ ہے۔'

انھوں نے مزید لکھا ' یہ واقعہ سب سے پہلے آپ کے بارے میں بہت کچھ کہتا ہے کہ اگر آپ ایک بزرگ آدمی سے رقم چھینتے ہیں جو اپنی گذر اوقات کے لیے محنت کر رہا ہے۔ کسی بھی ایسے شخص کے بارے میں سوچنا جو رمضان کے مہینے میں ایسی گندی حرکت کرنے کا دل رکھتا ہو گا بہت شرم کی بات ہے۔'

اس ویڈیو کو دیکھ کر ایگنی کورن کا کہنا تھا ' میں اس لیے روئی کیونکہ یہ سب سے ساتھ نا انصافی ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ حکام ان افراد کو جلد ہی پکڑ لیں گے۔'

اس پوسٹ کے وائرل ہونے کے بعد سے سورتمین کے لیے اب تک تین کروڑ، 70 لاکھ انڈونیشین روپیہ اکھٹا ہو چکا ہے۔

مقامی گورنر نے سورتمین کے لیے پانچ لاکھ انڈونیشین روپیہ عطیہ کیا اور انھیں کیلوں کا سٹاک بھی خرید کر دیا۔