امریکی صدر ٹرمپ سے 'انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر تحقیقات'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ خصوصی وکیل رابرٹ مولر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے انصاف میں ممکنہ رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں۔

اخبار کا نامعلوم حکام کے حوالے سے کہنا ہے کہ تین سینیئر انٹیلی جنس اہلکاروں نے مولر کے تفتیش کاروں کو انٹرویو دینے سے اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کا اخبار کو خفیہ طور پر معلومات دینا 'اشتعال انگیز' ہے۔

میں کومی پر حلفیہ بیان دینے کو تیار ہوں: صدر ٹرمپ

'ٹرمپ نے ایف بی آئی سے فلن کے روس سے تعلقات کی تفتیش ختم کرنے کو کہا تھا'

میں جانتا ہوں کہ میں زیرِ تفتیش نہیں ہوں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

واضح رہے کہ رابرٹ مولر امریکہ کے صدارتی انتخاب میں روس کے مبینہ طور پر اثرانداز ہونے اور ٹرمپ کے اس حوالے سے کسی بھی تعلق سے متعلق ایف بی آئی کی جانب سے کی جانے والی تفیتش کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب میں روس کے مبینہ طور پر اثرانداز ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے چلے آئے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے بدھ کو رابرٹ مولر کی جانب سے صدر ٹرمپ سے تفیش کرنے کے فیصلے کو ایک اہم موڑ قرار دیا۔

اخبار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکام کےحوالے سے کہنا تھا کہ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس ڈینیئل کوسٹ، نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ مائیک روجرز اور ان کے نائب رچرڈ لیجیٹ نے مولر کے تفتیش کاروں کو انٹرویو دینے سے اتفاق کیا ہے۔

اخبار کا مزید کہنا ہے کہ اس کا آغاز رواں ہفتے ہو سکتا ہے۔

ان اہلکاروں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ انصاف میں ممکنہ رکاوٹ کا آغاز صدر ٹرمپ کی جانب سے رواں برس نو مئی کو ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کرنے کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔

جیمز کومی کو برطرف کرنے سے قبل صدر ٹرمپ نے ان سے اس بات کی یقین دہانی حاصل کی تھی کہ ان کے خلاف تحقیقات نہیں کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں