واشنگٹن ڈی سی: کانگریس رکن پر حملہ، مسلح شخص پولیس مقابلے میں ہلاک

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے میں شدید زخمی ہونے والے ہاؤس آف رپریزینٹیٹو کے سینئر رہنما سٹیو سکلیز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی کے مضافات میں ری پپبلیکن پارٹی کے قانون سازوں پر بیس بال کی پریکٹس کے دوران فائرنگ کرنے والے شخص کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

زخمی ہونے والے پانچ افراد میں سے ایک ہاؤس آف رپریزینٹیٹو کے سینئر رہنما سٹیو سکلیز، جو کہ شدید زخمی ہوئے ہیں، اور پولیس کے دو اہلکار بھی شامل تھے۔

امریکہ میں دو پولیس اہلکار ’گھات لگا کر‘ قتل

فلوریڈا فائرنگ کا مشتبہ حملہ آور گرفتار

حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ جمیز ٹی ہوجکنس امریکی ریاست الینوائے کا رہائشی تھا جسے پولیس نے ایک مقابلے میں ہلاک کر دیا۔

صدر ٹرمپ نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ 'وحشیانہ حملہ' تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'ہم سب کے آپس میں اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن ایسے وقتوں میں یہ ضروری ہے کہ وہ تمام لوگ جو ہمارے ملک کے دارالحکومت میں کام کرتے ہیں، وہ یہاں اس لیے ہیں کیونکہ وہ اس ملک سے محبت کرتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر ٹرمپ نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ 'وحشیانہ حملہ' تھا

واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے واشنگٹن کے ہسپتال جہاں سٹیو سکلیز زیر علاج ہیں، ان کی عیادت کی اور ان کو 'محب وطن اور باہمت' قرار دیا۔

حملہ آور کے بارے میں اس کی بیوی کی دی ہوئی معلومات سے علم ہوا ہے کہ 66 جمیز ٹی ہوجکنس دو ماہ قبل ریاست ورجینیا آیا تھا۔ اس کے فیس بک پر دی گئی معلومات کے مطابق وہ ری پبلیکن پارٹی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مخالف تھا اور گذشتہ سال ہونے والی صدارتی مہم کے دوران ڈیموکریٹک امیدوار برنی سینڈرز کا حامی تھا۔

الیگزانڈریا علاقے کے پولیس کے سربراہ مائیکل براؤن کے مطابق حملہ ہونے کے تین منٹ کے اندر پولیس اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے جہاں انھوں نے جیمز ہوجکنس سے مقابلہ کیا۔

امریکی ایوان کے سپیکر پال ریان نے ایوان میں کہا کہ 'ہم سب متحد ہیں اور ہم میں سے کسی پر بھی حملہ، ہم سب پر حملہ ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں