’برطانیہ انھیں تحفظ دینے میں ناکام رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ SYRIA SOLIDARITY CAMPAIGN

لندن کے گرینفیل ٹاور میں آتشزدگی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پہلے شخص کی شناخت ایک فلاحی ادارے نے شامی پناہ گزین کے طور پر کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق 23 سالہ محمد الحاج علی 2014 میں برطانیہ آئے تھے اور سول انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

سیریا سولیڈیریٹی کیمپین کا کہنا ہے کہ ’محمد الحاج علی نے شام میں موت اور جنگ سے بچنے کے لیے خطرناک سفر طے کیا، لیکن انھیں موت یہاں برطانیہ میں اپنے گھر میں آگئی۔‘

بدھ کو لگنے والی اس آگ کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ جس وقت آگ لگی تو محمد اپنے بھائی عمر کے عمراہ 14ویں منزل پر اپنے فلیٹ میں موجود تھے اور دونوں نے وہاں سے بچ نکلنے کی کوشش کی تاہم سیڑھیاں اترتے ہوئے دونوں جدا ہوگئے۔

آگ بجھانے والے عملے نے عمر کو تو بچا لیا لیکن محمد شام میں اپنے رشتہ داروں کو فون کرنے کے لیے واپس اپنے کمرے میں لوٹ گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption بدھ کو لگنے والی اس آگ کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے

ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق : ’محمد اس انتظار میں کہ کوئی انھیں بچانے آئے گا دو گھنٹے تک شام میں اپنے ایک دوست کے ساتھ فون پر باتیں کرتے رہے۔‘

’انھوں نے کئی بار اپنے رشتہ داروں سے ملنے کی کوشش کی لیکن شام کی صورتحال کے باعث ان کا رابطہ نہ ہو سکا۔ انھوں نے گذشتہ چار سالوں سے اپنے گھر والوں کو نہیں دیکھا تھا۔‘

’جیسے ہی آگ ان کے فلیٹ تک پہنچی محمد نے اپنے دوست کو خدا حافظ بولا اور کہا کہ وہ ان کی طرف سے یہ پیغام ان کے گھر والوں کو بھی پہنچا دیں۔‘

ادارے نے ’مکمل تحقیقات‘ کا مطالبے کیا اور کہا کہ ’محمد تحفظ کے لیے اس ملک آئے اور برطانیہ انھیں تحفظ دینے میں ناکام رہا۔‘

محمد الحاج علی کے والدین برطانیہ کا ویزہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ دمشق سے آ کر محمد کر لاش دیکھ سکیں۔

اسی بارے میں