یورپ میں جہادی سرگرمیوں میں خواتین کے کردار میں اضافہ ہوا ہے: رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یوروپول کا کہنا ہے کہ مسلسل تین برسوں میں گذشتہ برس کے دوران اسلامی شدت پسندی کے شبہے میں یورپ میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

دنیا بھر کا اظہار یکجہتی، دہشت گردی کی مذمت

یورپ میں دہشت گردی کے بڑے واقعات

یورپی پولیس کے مطابق گذشتہ برس 718 جہادی دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار ہوئے جبکہ سنہ 2015 تک یہ تعداد 687 اور سنہ 2014 میں یہ تعداد 395 تھی۔

تاہم 2015 میں حملوں کی تعداد 17 تھی جو 2016 میں کم ہو کر 13 ہوگئی۔

ان حملوں میں سے چھ کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے تھا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے پرتشدد حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یورپی یونین میں دہشت گردی کی صورتحال کے حوالے سے بننے والی رپورٹ ’ای یو ٹیررازم سیچوئیشن اینڈ ٹرینڈ‘ کے مطابق یوروپول کا کہنا ہے آٹھ ممبر ممالک نے بتایا ہے کہ جہادیوں، قوم پرستوں اور دیگر گروہوں کی جانب سے 2016 میں یورپ میں دہشت گردی کے ناکام ہونے والے، ناکام بنا دیے جانے والے یا کامیاب ہونے والے حملوں کی تعداد 142 تھی۔

رپورٹ کے مطابق 142 افراد ان حملوں میں ہلاک ہوئے جبکہ 379 زخمی ہوئے۔

یورپی یونین کے سکیورٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی تعداد سے پتہ چلتا ہے کہ خفیہ معلومات کے لیے قریبی مشاورت کی کس قدر ضوروت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی سرحد کا احترام یا اسے تسلیم نہیں کرتی۔

62 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہادی سرگرمیوں میں خواتین کے کردار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 'مغرب میں خواتین جنگجو جہادیوں کو دہشت گردی کی کارروائی میں آپریشنل کردار ادا کرنے میں مردوں کے مقابلے میں کم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مغربی ممالک میں خواتین کی جانب سے کامیاب یا ناکام کارروائیوں سے دیگر خواتین کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔'

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس سب سے زیادہ حملے کرنے والے نسلی قوم پرست اور علیحدگی پرست انتہا پسند تھے۔

بائیں بازو والے گروہوں کی جانب سے ہونے والی حملوں میں بھی سنہ 2014 کے بعد سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سنہ 2016 میں یہ تعداد 27 تک پہنچ گئی جن میں سے 16 حملے اٹلی میں ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں