قطر کا بحران: کیا سعودی ضرورت سے زیادہ نہیں کر گئے؟

قطر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کئی خلیجی ممالک نے قطر ائیر ویز کی پروازیں بند کر دی ہیں

خلیجی ممالک کے شہری اب بھی صدمے میں ہیں۔

قطر کو، جو ایک خود مختار ریاست ہے، اس کے خلیجی عرب ہمسائیوں سے غیر معمولی پابندیوں کا سامنا ہے، جن کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے۔

’قطر بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی مالی معاونت کر رہا ہے‘

قطر اور امریکہ کے درمیان اربوں ڈالر کا معاہدہ

’قطر کو جب تک ضرورت ہے خوراک بھیجیں گے‘

اقتصادی اور سفارتی پابندیاں لگانے کی وجہ قطر پر لگائے جانے والے الزامات ہیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی متواتر فنڈنگ کر رہا ہے اور خطے میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے۔ قطر دونوں الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اب فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، درآمدات کو سرحدوں پر روک دیا گیا ہے اور قطری تارکینِ وطن کو خلیجی ممالک سے نکالا جا رہا ہے۔

عرب اتحاد کی لکڑی اب آہستہ آہستہ گھسنے لگی ہے۔

اگرچہ امید کی جا رہی ہے کہ فوری بحران کو مذاکرات سے حل کیا جا سکتا ہے، لیکن خلیجی علاقہ اب پہلے کی طرح نہیں رہے گا۔

اب ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ حالیہ بحران علاقے کو نئے اور مزید پرخطر راستے پہ لے جائے گا۔

قطر کے خلاف پابندیوں کا آغاز سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے شروع کیا۔ ان چاروں ممالک میں سنی مسلم قیادت ہے جو دنیا کو صرف ان دو زاویوں سے دیکھتی ہے جن سے ان کے اقتدار کو خطرہ ہے اور وہ ہیں ایران اور سیاسی اسلام، جس میں پرتشدد جہاد بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قطر کے خلاف پیش پیش سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیرِ دفاع محمد بن سلمان ہیں

ایران سے چاروں ممالک کو بہت شکایتیں ہیں۔

قطر کی ایران کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی گیس کی فیلڈ ہے۔ جغرافیائی حالات کی وجہ سے وہ ایسے ہمسائے بن گئے ہیں جنھیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ لیکن سعودی عرب، خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورے کے بعد، یہ چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک ایران کے خلاف متحدہ محاذ بنائیں۔

ان کی نظروں میں قطر نے ان کو مایوس کیا ہے۔

یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ سیاسی اسلام کے موضوع پر کیوں یہ ریاستیں قطر سے خطرہ محسوس کرتی ہیں۔

قطر کا شاہی خاندان ایک طویل عرصے سے اخوانِ مسلمون کی حمایت کرتا رہا ہے، جو اسلامی خلافت کی تائید کرتا ہے اور جس کی وجہ سے آخر کار خلیجی شاہی خاندان ختم ہو سکتے ہیں۔

قطر نے مصر، لیبیا، شام اور غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریکوں کی بھی حمایت کی ہے۔

انھوں نے ملک کے سیٹیلائٹ چینل الجزیرہ پر کئی پروگراموں کی اجازت دی جس میں عرب رہنماؤں پر کھلی تنقید کرنے والوں کو مدعو کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان نے مجھے بتایا کہ وہ اخوانِ مسلمون کو خطے کے لیے ایک موجودہ خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

دہشت گردی پر یہاں تصویر مزید دھندلی نظر آتی ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی قطر پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی فنڈنگ کر رہا ہے جن میں شام اور عراق میں برسرِ پیکار گروہ قابلِ ذکر ہیں۔

بہت سے لوگ اسے عرب ممالک کی منافقت سمجھتے ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کی ناکام کوشش میں سعودی عرب نے لاکھوں ڈالر شام میں سنی باغیوں کو دیے، جن میں سے کئی ایک بعد میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم سے جا ملے۔

لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قطر کے شام میں موجود النصرہ فرنٹ سے روابط ہیں جو کہ القاعدہ سے تعلق رکھتا ہے۔

قطری خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مجھے بتایا تھا کہ قطر نے شام میں قطری شاہی خاندان کے 26 یرغمال اراکین کی رہائی کے لیے القاعدہ کے ایک سابق رکن اور ایرانی سیکورٹی حکام کو ایک ارب ڈالر کا تاوان دیا تھا۔ انھیں مبینہ طور پر ایران کی حمایت والے عراقی شیعہ شدت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدام کریں

اس کے علاوہ اس معاہدے میں ان درجنوں شیعہ جنگجوؤں کو بھی چھوڑا گیا جنھیں شام میں جہادیوں نے پکڑ رکھا تھا۔

سرکاری طور پر قطر اس کی تردید کرتا ہے۔

اگرچہ کئی ممالک قطر کو تنہا کرنے اور سزا دینے کی تائید کرتے ہیں لیکن اس میں پیش پیش سعودی عرب کے 31 سالہ نائب ولی عہد اور وزیرِ دفاع محمد بن سلمان ہیں جنہیں ’ایم بی ایس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کہیں ’ایم بی ایس‘ کچھ زیادہ آگے نہیں نکل گئے۔

سعودی عرب کو پہلے ہی کئی مشکلات سامنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر وہ گزشتہ دو برسوں سے یمن میں ایک نہایت تباہ کن لڑائی لڑ رہا ہے۔ دوسری طرف ملک کے شیعہ اکثریت والے مشرقی صوبے میں پروان چڑھتی ہوئی بغاوت سے نمٹ رہا ہے۔

وہ ابھی بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی والے اتحاد کا حصہ ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے کئی سعودی مساجد پر بم حملے کیے ہیں اور اس ماہ ہی مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔

قطر کو طویل عرصے تک تنہا رکھنے کی اصل قیمت شاید اقتصادی ہو۔

کاروبار کو بڑھانے اور اپنی بڑھتی ہوئی نوجوان نسل کو ملازمتیں مہیا کرنے کے لیے خلیجی ممالک کو استحکام اور کاروبار دوست ماحول کی ضرورت ہے۔

یہ تعطل اسے چیز کو مزید نقصان پہنچائے گا۔ جتنا عرصہ یہ رہے گا، اتنے ہی گہرے گھاؤ ہوتے جائیں گے، نہ صرف قطر بلکہ پورے خطے کے لیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں