امریکی انتخاب میں روسی مداخلت: صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف تحقیقات کی تصدیق کردی

صدر ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف روسی تحقیقات کو ’وچ ہنٹ‘ قرار دیا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر تسلیم کیا ہے کہ ان کے خلاف امریکی صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کی تفتیش کے سلسلے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔

ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے لکھا: ’ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کو نکالنے پر میرے خلاف تفتیش وہ شخص کر رہا ہے جس نے مجھے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کو برخاست کرنے کا کہا تھا۔‘

ان کا بظاہر اشارہ امریکی نائب اٹارنی جنرل کی طرف تھا۔

ٹرمپ سے 'انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر تحقیقات'

سفری پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کا فیصلہ برقرار

’امریکہ سعودی عرب کو گائے کے طور پر استعمال کر رہا ہے‘

نائب اٹارنی جنرل راڈ روسنسٹین کے ایک میمو کو بنیاد بنا کر ہی وائٹ ہاؤس نے سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر کو برخاست کرنے کا جواز پیش کیا تھا۔

مارچ میں اٹارنی جنرل جیف سیشنز کے مبینہ روسی مداخلت کے حوالے سے کسی بھی جانچ پڑتال سے انکار کے بعد راڈ روسنسٹین کے حوالے اس کی تفتیش کا ذمہ دیا گیا تھا۔

نائب اٹارنی جنرل نے اس کے بعد سپیشل کونسل رابرٹ ملر کو انکوائری کا سربراہ بنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اس ہفتے کے آغاز میں امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ رابرٹ مولر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے انصاف میں ممکنہ رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

رابرٹ مولر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُن کا انٹیلی جنس اہلکاروں سے تفتیش کا منصوبہ ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے رواں برس مئی کو ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی کو اس لیے برطرف تو نہیں کیا تھا کہ مائیکل فلن کے خلاف تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔

جیمز کومی کو برطرف کرنے سے قبل صدر ٹرمپ نے ان سے اس بات کی یقین دہانی حاصل کی تھی کہ ان کے خلاف تحقیقات نہیں کی جا رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو ایک ٹویٹ میں لکھا کہ 'روسیوں کے ساتھ میری ملی بھگت' کی سات ماہ سے جاری تحقیقات اور سماعتوں کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا ثبوت نہیں لا سکا۔ افسوس۔ ‘

اسی بارے میں