امریکی جنگی جہاز کی تجارتی جہاز سے ٹکر، سات اہلکار لاپتہ

یو ایس ایس فٹزجیرالڈ تصویر کے کاپی رائٹ US Navy
Image caption یو ایس ایس فٹزجیرالڈ سنیچر کی صبح ہونے والی ٹکر سے قبل

امریکہ کا جنگی بحری جہاز جاپان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز سے ٹکرا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کے سات اہلکار لاپتہ ہیں۔

زخمیوں میں جہاز کے کمانڈنگ افسر بھی شامل ہیں جنھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

امریکی بحریہ کا تباہ کن جنگی جہاز یو ایس ایس فٹزجیرلڈ سنیچر کو جاپان کے جنوب مغربی ساحل یوکوسوکا سے 56 ناٹیکل میل یعنی 103 کلومیٹر دور اے سی ایکس کرسٹل نامی تجارتی جہاز سے مقامی وقت کے مطابق صبح ڈھائی بجے ٹکرا گیا۔

تصاویر میں بظاہر یہ نظر آ رہا ہے کہ تباہ کن جنگی جہاز کے دائیں پہلو کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

امریکی بحریہ کے ساتویں بیڑے نے ٹوئٹر پر پیغام میں بتایا ہے کہ کمانڈنگ افسر کے ساتھ دو دیگر جہاز رانوں کو 'زخموں کے علاج کے لیے ہیلی کاپٹر سے ہسپتال لے جایا گيا ہے‘۔

پہلے یہ کہا گيا تھا کہ یو ایس ایس فٹزجیرلڈ کے بعض حصے میں پانی گھس آیا ہے اور مجموعی نقصان کا تعین کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Kyodo via Reuters
Image caption یو ایس ایس فٹزجیرالڈ کی ہیلی کاپٹر سے لی گئی تصاویر میں نقصانات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں

یہ بھی بتایا گيا تھا کہ 154 میٹر طویل جہاز یوکوسوکا کی جانب گامزن ہے۔

ٹوکیو سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ جس جگہ یہ ٹکر ہوئی ہے وہ انتہائي مصروف راستہ ہے جہاں سے جہاز ٹوکیو خلیج کی طرف آمدورفت کرتے ہیں۔

امریکی جہاز دنیا کے جدید ترین جنگی جہازوں میں سے ایک ہے اور اس کے پاس انتہائی جدید ریڈار نظام ہے۔ اور اب اس بارے میں بہت سے سوالات ہوں گے کہ آخر اس کے عملے اس ٹکر سے بچنے میں ناکام کیوں رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اے سی ایکس کرسٹل 222 میٹر لمبا جہاز ہے جبکہ یو ایس ایس فٹزجیرالڈ کی لمبائی 154 میٹر ہے۔

کوسٹ گارڈ نے کہا کہ اے سی ایکس کرسٹل کنٹینر جہاز پر فلپائن کا پرچم لہرا رہا تھا اور اس کا وزن 30 ہزار ٹن سے قدرے کم تھا لیکن یہ امریکی جنگی جہاز سے تین گنا وزنی تھا۔

جاپانی نشریات این ایچ کے کے مطابق اس حادثے میں تجارتی جہاز کو بہت کم نقصان ہوا ہے۔

سماجی رابطے پر جاری ایک بیان میں امریکی بحریہ کے آپریشن چیف ایڈمیرل جان ریچرڈسن نے کہا: 'مزید تفصیلات کے حصول پر ہم فٹزجیرلڈ کے اہل خانہ سے رابطہ کریں گے اور اگر مناسب ہوا تو عوام سے بھی شیئر کریں گے ۔۔۔ ابھی ہماری ساری توجہ فٹزجیرلڈ کے عملے اور ان کے اہل خانہ پر موکوز ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں