مصر میں 30 افراد کو سزائے موت سنا دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ STR/AFP/GETTY IMAGES
Image caption جون 2015 میں مصر کے اعلیٰ ترین وکیلِ استغاثہ ہشام براکت ایک کار بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔

مصر میں ایک عدالت نے ملک کے اعلیٰ ترین پبلک پراسیکیوٹر کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں 30 افراد کو سزائے موت دینے کی تجویز دے دی ہے۔

جون 2015 میں مصر کے اعلیٰ ترین وکیلِ استغاثہ ہشام براکت ایک کار بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔

قاہرہ میں اطالوی قونصل خانے کے باہر کار بم دھماکہ

گذشتہ چند سالوں میں ہلاک ہونے والے وہ مصر کے اعلیٰ ترین عہدیدار تھے۔

2013 میں مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کا تختہ الٹائے جانے کے بعد سے ہشام برکت نے ہزاروں اسلام پسندوں کے خلاف مقدمات دائر کیے تھے۔

ان کے دور میں اخوان المسلمین کے سینکڑوں حامیوں کو سزائے موت یا عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

مصری حکومت نے ہشام براکت کے قتل کے لیے اخوان المسلمین اور غزہ سے تعلق رکھنے والے گروہ حماس کو ان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

گذشتہ ماہ مصر کی وزارتِ داخلہ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں چند افراد کو اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اس ویڈیو میں انھوں نے اعتراف کیا کہ وہ تربیت کے لیے غزہ گئے تھے۔ بعد میں ان میں سے چند افراد نے عدالت کو بتایا کہ ان سے یہ بیان تشدد کر کے لیا گیا تھا۔

سزائے موت کی عدالتی تجویز اب مصر کے مفتیِ اعظم کو بھیجی جائے گی۔

مصر میں سزائے موت کے تمام فیصلے مفتیِ اعظم کے پاس رائے کے لیے بھجوائے جاتے ہیں تاہم ان کے فیصلے کے بعد بھی اپیل کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں