امریکہ نے شامی جنگی طیارہ مار گرایا

امریکی جنگی طیارہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ ایک اتحادی جنگی طیارے نے رقہ صوبے میں ایک شامی فوجی جہاز مار گرایا ہے۔

پینٹاگان نے کہا کہ ایک امریکی F/A-18E سپر ہورنٹ طیارے نے شام کے SU-22 بمبار طیارے کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ٹھکانے کے قریب بم برسا رہا تھا۔

شام میں امریکی میزائل لانچرز کی تنصیب پر روسی تشویش

امریکہ کا شام پر شواہد چھپانے کے لیے قیدیوں کی لاشیں جلانے کا الزام

یہ پہلا موقع ہے کہ شام میں سرگرم امریکی اتحاد نے کوئی شامی طیارہ مار گرایا ہو۔

شام نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے خطرناک 'مضمرات' ہوں گے۔

ادھر روس کے وزیرِ خارجہ سر گے لاروف نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ شام کی علاقائی سالمیت کا ہر صورت احترام کرے اور اس کے خلاف کسی بھی کارروائی سے گریز کرے۔

روس کے نائب وزیرِ خارجہ نے امریکہ کو شام کی افواج کے خلاف کارروائی کرنے پر متنبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ اتوار کی سہ پہر طبقہ شہر کے قریب پیش آیا جہاں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے نبرد آزما ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ 1999 میں کوسوو کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ نے کوئی جہاز مار گرایا ہو۔

پینٹاگان نے کہا ہے کہ حکومت کے حامی جنگجوؤں نے ایس ڈی ایف کے ایک دستے پر حملہ کر کے انھیں جادین قصبے سے باہر نکال دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں