ہم صدمے کی حالت میں اور غم سے چور ہیں: لندن ’حملہ آور' کے اہل خانہ

جائے واقعہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شمالی لندن میں واقع ایک مسجد پر ہونے والے دہشت گردی کی کارروائی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے شخص کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ صدمے کا شکار اور غم سے چور ہیں۔

فنزبری پارک کے علاقے میں مسلمانوں پر ایک وین چڑھائے جانے کے واقعے کے بعد چار بچوں کے باپ 47 سالہ ڈیرن اوزبورن کو قتل کی کوشش اور مبینہ دہشت گردی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

٭ لندن ’دہشت گردی‘: مسجد کے باہر وین نے لوگ کچل دیے

میٹروپولیٹن پولیس کی سربراہ کریسیڈا ڈک اور مذہبی رہنماؤں نے پیر کی رات ماتمی تقریب میں شرکت کی۔

پولیس کے مطابق ایک وین اس وقت فٹ پاتھ پر چلنے والے لوگوں پر چڑھا دی گئی جب وہ نصف رات کے قریب سیون سسٹرز روڈ پر فنزبری پارک کی مسجد میں نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔

اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس علاقے میں مزید پولیس اور مسلح افسران کو تعینات کرنے کی بات کہی گئی ہے

کریسیڈا ڈک نے کہا کہ 'یہ واقعہ واضح طور پر مسلمانوں پر حملہ ہے' اور اب اس برادری کی حفاظت کے لیے علاقے اور بطور خاص مذہبی مقامات پر مزید پولیس اور مسلح افسران تعینات ہوں گے۔

اوزبورن کی والدہ، بہن اور بھانجوں نے ایک بیان میں کہا: 'ہم لوگ بہت زیادہ صدمے میں ہیں۔ یہ ناقابل یقین ہے۔ ہم اس سے نمٹ نہیں پا رہے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'زخمیوں کے لیے ہمارا دل افسردہ ہے۔'

دریں اثنا پولیس نے کارڈف کے علاقے میں ایک مکان کی تلاشی لی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پولیس جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے

وزیر سکیورٹی بین ویلیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کا سکیورٹی سروسز میں ریکارڈ نہیں اور زیادہ امکان یہی ہے کہ اس نے تنہا ہی یہ کام انجام دیا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس نے کہا کہ مسٹر اوزبورن کو قتل اور قتل کی کوشش سمیت دہشت گردی کے واقعے اور اس کی تیاری کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں 11 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے نو کو ہسپتال لے جایا گیا ہے اور دو کا حملے کی جگہ ہی علاج کیا گیا ہے۔ بہت سے زخمیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے۔

پیر کی شب مذہبی رہنماؤں نے فنز بری پارک مسجد کے پاس لوگوں سے خطاب کیا۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد مسجد کے چیئرمین محمد کوزبر نے کہا کہ 'یہ حملہ ہمارے خاندانوں، ہماری آزادی اور ہمارے وقار پر تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسجد کے پاس ایک شب بیداری کی ماتمی تقریب منعقد کی گئی جس میں مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی

انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں جو شخص ہلاک ہوا ہے اس کے چھ بچے ہیں۔

سٹیپنی کے بشپ ریو ایڈریئن نیومین نے کہا: 'کسی ایک عقیدے پر حملہ ہم سب پر حملہ ہے۔'

خیال رہے کہ برطانیہ میں گذشتہ تین ماہ کے دوران ویسٹ منسٹر، مانچسٹر اور لندن برج کے بعد یہ چوتھا دہشت گردانہ حملہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں