الجزائر: بچے کو کھڑکی سے لٹکانے پر دو سال قید

تصویر تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption بچے کو ایک بلند عمارت کی کھڑکی سے لٹکانے کے جرم میں ایک شخص کو دو سال کی سزا سنائی گئی ہے

الجزائر میں عدالت نے ایک شخص کو فیس بک پر زیادہ لائکس پانے کے لیے بچے کو کھڑکی سے لٹکانے کے جرم میں دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اس شخص نے ایک اونچی عمارت کی ایک کھڑکی سے اپنے ساتھ بچے کی لٹکتی ہوئی تصویر پوسٹ کی ہے اور اس کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ 'اگر ایک ہزار لائکس نہیں ملے تو میں اسے گرا دوں گا۔'

٭ رمضان میں ٹی وی شوز نے حد پار کر دی

٭ فیس بک کے پنجے کہاں کہاں

اس تصویر کے بعد سوشل میڈیا پر اس شخص کو بچے کے ساتھ ایسا کرنے پر گرفتار کیے جانے کا مطالبہ کیا۔

پولیس نے کہا کہ اتوار کو اس شخص کی گرفتاری کے بعد اس پر بچے کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا فرد جرم عائد کی گئی۔

ٹی وی چینل العربیہ کے مطابق اس شخص نے دارالحکومت الجیئرز کی ایک عمارت کی 15ویں منزل کی ایک کھڑکی سے بچے کو لٹکایا تھا۔

الجزائر کے ایک نجی ٹی وی چینل اناحر کے مطابق بچے کو کھڑکی سے لٹکانے والا شخص اس کا رشتہ دار ہے اور اس نے بچے کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تصویر کے ساتھ سوشل میڈیا پر چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

ٹی وی کے مطابق اس نے کہا کہ 'بچے کی تصویر ایک بالکونی میں لی گئی ہے جو محفوظ تھی تاہم اس حفاظتی باڑ کو تصویر سے ہٹا دیا گيا ہے۔'

بچے کے والد نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ اس شخص کو معاف کر دیا جائے کیونکہ وہ بس مذاق کر رہا تھا۔

تاہم جج نے ان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تصویر واضح ہے کہ بچے کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔

ہماری نامہ نگار نے بتایا کہ اس پوسٹ پر سوشل میڈیا میں ایک ہزار سے زیادہ ردعمل آئے جن میں زیادہ تر میں غصے کا اظہار تھا۔

بہت سے الجزائر کے باشندوں نے اس شخص کی تذلیل کی اور اسے گرفتار کرنے اور اس قید کی سزا سنانے کے لیے حکام کی تعریف کی۔

اس سے قبل رپورٹس میں غلط طور پر یہ کہا گیا تھا کہ سزا پانے والا شخص بچے کا والد ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں