محمد بن سلمان نوجوانوں میں کیوں مقبول ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی عرب کی 31 سالہ شہزادے محمد بن سلمان کا عروج حیرت انگیز ہے۔

جب میں ان سے سنہ 2013 میں جدہ میں ملا تو انھوں نے اپنا تعارف محض ایک 'وکیل' کے طور پر کروایا۔ آج وہ عرب دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے حکمران بننے جارہے ہیں۔

’سعودی عرب امریکہ سے اچھے طریقے سے پیش نہیں آرہا‘

سعودی شاہ نے بھتیجے کی جگہ بیٹے کو ولی عہد بنا لیا

یمن میں بے نتیجہ اور نقصان دہ فوجی کارروائیوں کے پیچھے کارفرما رہنے کے باوجود وہ اپنے ملک میں خاصے معروف ہیں، خاص طور پر نوجوان سعودیوں میں۔

انھوں نے سرکاری اداروں میں بہت سارے غیر مؤثر اور بزرگ افراد کی جگہ مغرب سے تعلیم یافتہ نوجوان ٹیکنوکریٹس کو بھرتی کیا ہے۔ انھوں نے ایک انتہائی پر جرات مندانہ تعمیراتی منصوبہ 'وژن 2030' بھی ترتیب دیا اور سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی سعودی ارماکو کے کچھ حصوں کی فروخت کا بھی اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد بن سلمان نے واشنگٹن اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو بھی قائم کیے

انھوں نے واشنگٹن اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی تعلقات قائم کیے لیکن ان کی سب سے بڑی اور خطرہ موہ لینے والی کوشش قدامت پسند مذہبی اسٹیبلشمنٹ پر قدغن لگانا ہوسکتی ہے۔ واشنگٹن کو یہ کوشش پسند ہے لیکن ان کے ملک کے قریبی ساتھیوں کو یہ پسند نہیں۔

نئے ولی عہد محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد کی حیثیت سے یمن سعودی عرب جنگ، توانائی سے متعلق عالمی پالیسی سازی اور اس کے نفاذ اور تیل کے ختم ہوجانے کے بعد ریاست کے مستقبل سے متعلق منصوبوں کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں