محمد بن سلمان، سعودی قیادت میں انقلاب کے داعی

محمد بن سلمان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک مختصر سے حکم نامے پر دستخط کر کے مہینوں سے جاری قیاس آرائیوں کا سلسلہ روک دیا۔

اس کے تحت شہزادہ محمد بن نائف کو ہٹا کر ان کی جگہ بادشاہ کے 31 سالہ صاحبزادے محمد بن سلمان کو اگلا بادشاہ نامزد کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ محمد بن نائف کو وزیرِ داخلہ کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا۔

یہ حکم نامہ مختصر مگر جامع ہے اور اس کے مضمرات وسیع اور دور رس ہیں۔

محمد بن سلمان کا بطور ولی عہد تقرر جنوری 2015 میں شاہ سلمان کی تاج پوشی کے بعد سے قیادت میں انقلابی تبدیلیوں کے عمل کا حصہ ہے۔ نئے بادشاہ کے سب سے پہلے احکامات میں سے ایک اپنے بیٹے کو نائب ولی عہد مقرر کرنا تھا۔

نیا دور، نیا انداز

نئی ٹیم نے کئی روایات توڑی ہیں۔ کئی نیم جان سرکاری اداروں کو زیادہ موثر اداروں میں ضم کر دیا گیا یا پھر سرے سے ختم ہی کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومتی فیصلہ سازی کا عمل زیادہ سہل اور رواں بنایا گیا۔

قیادت کے اندر آنے والی یہ تبدیلیاں ڈرامائی تھیں اور ان کے نتیجے میں اقتدار کی اکثر باگیں نائب ولی عہد کے ہاتھوں میں آ گئیں۔ وہ وزیرِ دفاع بن گئے اور ساتھ ہی ساتھ سعودی عرب کی تیل کی صنعت کے مرکزی پالیسی ساز کے روپ میں بھی سامنے آئے۔ اسی دوران محمد بن نائف کی وزارتِ داخلہ کے پر کاٹے جانے لگے اور ان کے بہت سے اختیارات شاہی دربار کی چھتری تلے آ گئے۔

راتوں رات آل سعود کے قدیم طریقۂ کار متروک ٹھہرے۔ وہ روایتی وقت طلب طریقہ ترک کر دیا گیا جس کے تحت اہم فیصلے کرتے وقت شہزادوں سے نجی ملاقاتیں کر کے ان کی منشا حاصل کی جاتی تھی۔ اب بادشاہ اور ان کا بیٹا جو دل میں آئے، فوراً کر گزرتے تھے۔

اس سے مقامی اور علاقائی پالیسیوں پر اثر پڑا۔ ملک کے اندر نئی قیادت یہ سمجھنے لگی کہ وسیع تر معاشی اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔ چند ماہ کے اندر اندر بین الاقوامی ماہرین سے مشاورت کے بعد محمد بن سلمان نے وژن 2030 پروگرام کی داغ بیل ڈالی۔ اس کے تحت ملک کا تیل پر انحصار ختم کیا جانا تھا۔ اس کے علاوہ اس میں نجی شعبے کی شمولیت اور نوجوانوں کے ملازمتیں پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption موجودہ بادشاہ سلمان اور سابق ولی عہد محمد بن نائف

علاقائی سپر پاور

ملک سے باہرشاہ سلمان اور ان کے بیٹے نے فیصلہ کیا کہ سعودی عرب کو علاقائی سپر پاور کے روپ میں ابھرنا چاہیے تاکہ ان کے خیال میں ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کی سنی ریاستوں میں مداخلت روکی جا سکے۔

اسی ضمن میں محمد بن سلمان نے مارچ 2015 میں یمن کے خلاف فوج کشی کر کے سب کو حیران کر دیا۔

خلیجی ملکوں کے تعاون سے برپا کی جانے والی اس مہم جوئی کا مقصد شیعہ حوثیوں کی جانب سے شروع کردہ بغاوت کو کچلنا تھا۔ بظاہر یہ کارروائی مختصر اور فیصلہ کن ہونا تھی، لیکن دھیرے دھیرے ایک ایسی جنگ میں ڈھلتی چلی گئی جس کا کوئی واضح فاتح نظر نہیں آ رہا۔ اسی دوران شہریوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے۔

حال ہی میں سعودی عرب نے چند دوسرے عرب ملکوں کے ساتھ مل کر قطر پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ دوحہ کی قیادت ایران کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہے۔ ایک بار پھر یہ واضح نہیں کہ یہ بحران کیسے ختم ہو گا۔

نوجوان بادشاہ

محمد بن سلمان کو یقیناً کئی چیلنجوں کا سامنا ہے، لیکن انھیں بظاہر ان کی پروا نہیں ہے۔ وہ پرجوش، توانائی سے بھرپور اور پرعزم شخصیت کے مالک ہیں۔ البتہ ان کے ناقدین انھیں غیرمحتاط اور من موجی قرار دیتے ہیں۔

تاہم جو بھی ہو، یہ بات تقریباً طے ہے کہ ایک عرصے کے بعد سعودی عرب میں ایک نسبتاً نوجوان بادشاہ بیٹھا نظر آئے گا۔ عام طور پر سعودی بادشاہ 70 یا 80 کے پیٹے ہی میں تخت نشین ہوتے ہیں۔ خود ان کے والد سلمان بن عبدالعزیز کی عمر 81 برس ہے۔

اس دوران سعودیوں کو طویل عرصے تک داخلی استحکام بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے دوران جانشینی کے مسائل بار بار تنگ نہیں کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ایران کا مسئلہ

دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ذاتی اور عوامی پشت پناہی کے سبب اغلب ہے کہ محمد بن سلمان ایران کے خلاف مہم جاری رکھیں گے۔ یہ بات خلیج کے استحکام کے لیے خوش آئند نہیں ہے۔

علاقائی حکمتِ عملی کے طور پر امکان ہے کہ محمد بن سلمان خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے دوسرے پانچ ارکان کو اپنے حلقۂ اثر میں لانے کی کوششیں بڑھا دیں گے۔ قطر کے خلاف پابندیاں اسی عمل کا حصہ لگتی ہیں۔

متفقہ حمایت نہیں

تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آلِ سعود کے باقی ارکان ان تمام سرگرمیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان میں سے سب نہیں سمجھتے کہ محمد بن سلمان ہی اگلے بادشاہ کے لیے موزوں ترین انتخاب ہیں۔ انھیں ہیئت البیعت کی جانب سے متفقہ حمایت نہیں ملی اور 34 میں سے تین شہزادوں نے ان کے خلاف ووٹ دیے۔

نجی محفلوں میں ان کی یمن میں جاری جنگ کا حل تلاش کرنے، نوجوانوں میں بےروزگاری کا مسئلہ حل کرنے اور دوسرے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

تاہم ایک ایسے شخص کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی زیادہ پروا نہیں ہو گی جو اپنے کسی بھی پیش رو سے بڑھ کر صدارتی انداز میں بادشاہت چلانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ عرب ملکوں میں طاقتور صدور کی روایت بھی خاصی لمبی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں