نئے سعودی ولی عہد کے بارے میں پانچ اہم حقائق

سعودی شہزادہ محمد بن سلمان تصویر کے کاپی رائٹ MOD
Image caption شہزادہ محمد 29 برس کی عمر میں وزیر دفاع بنے

اپنے والد کے بادشاہ بننے کے بعد سے 31 سالہ شہزادہ محمد بتدریج تیل کی دولت سے مالامال اس ملک کے دوسرے سب سے بااثر شخص بن گئے ہیں۔ اور اب تخت سے ایک ہی قدم کی دوری پر ہیں۔

نوجوان شہزادے کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے اور ان کے سارے حریف راستے سے ہٹا دیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کے نئے ولی عہد کے بارے میں مندرجہ ذیل حقائق کافی اہم ہیں۔

گھریلو شخص

محمد بن سلمان 31 اگست 1985 کو پیدا ہوئے تھے اور وہ اس وقت کے شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔

ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شہزداہ محمد نے کئی سرکاری اداروں میں کام کیا۔ اُن کی ایک ہی بیوی ہے جن سے ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

بادشاہت پر خاندان کی گرفت مضبوط

نئے ولی عہد اپنے والد کے تخت سنبھالنے سے پہلے بھی قریب تھے۔

انھیں 2009 میں اپنے والد کا مشیرِ خصوصی مقرر کیا گیا، جو اُس وقت ریاض کے گورنر تھے۔

شہزادہ محمد کی ترقی کا سفر حیران کن ہے اور سلطنت میں ایسی غیر معمولی تبدیلیاں پہلی بار سامنے آئی ہیں۔

شہزادہ محمد کے سیاسی سفر میں ایک اہم موڑ اپریل 2015 میں اُس وقت آیا جب شاہ سلمان نے اپنے جانشینی کی قطار میں نئی نسل کو شامل کیا۔

شاہ سلمان کے سوتیلے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کو ہٹا کر محمد بن نائف کو ولی عہد مقرر کیا جب کہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کر دیا۔

اس فیصلے کے بعد محمد بن سلمان کی تخت تک رسائی ممکن بنانے کے لیے بس محمد بن نائف کو ہٹانا تھا۔

نئے ولی عہد نائب وزیرِ اعظم کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع کے عہدے پر بھی قائم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادہ محمد بن سلمان نے پچھلے ماہ صدر ٹرمپ سے واخٹ ہاؤس میں ملاقات کی

دفاعی امور پر زور

شاہ سلمان نے 2015 میں اقتدار سنبھالتے ہی دو اہم تبدیلیاں کیں اور اپنے بیٹے کو تخت کے قریب کر دیا۔

شہزادہ محمد 29 برس کی عمر میں دنیا کے سب سے نو عمر وزیر دفاع بنے۔

عہدہ سنبھالنے کے صرف دو ماہ بعد محمد بن سلمان کے اولین اقدامات میں سے ایک دوسرے عرب ممالک کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف جنگی مہم شروع کرنا تھا۔

اب تک سعودی اتحاد باغیوں کے ہاتھوں سے دارالحکومت صنعاء کا کنٹرول واپس یمن کے صدر عبد ربہ منصور کو دلوانے میں ناکام رہا ہے۔

تیل سے ماورا معیشت

اپریل 2016 میں انتہائی بااثر شہزادہ محمد نے کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیولیپمنٹ افیئر کے صدر کی حیثیت سے ملک میں بڑے پیمانے پر معاشی اور سماجی اصلاحات کے پروگرام شروع کیے جن کا مقصد سلطنت کے تیل پر انحصار کو ختم کرنا تھا۔

محمد بن سلمان نے وژن 2030 کے نام سے ملک میں یہ نیا منصوبہ متعارف کروایا اور کہا کہ اس کے تحت ہم 2020 تک تیل پر انحصار ختم ہو جائے گا۔

جب سے وہ منظر عام پر آئے ہیں انھیں سعودی عرب کے لیے ایک اولوالعزم رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف نے منصوبے کو پرعزم اور دور رس قرار دیا مگر یہ تنبیہ بھی کی کہ اس پر عمل ایک چیلنج ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپریل 2015 میں شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کو نائب ولی عہد بنایا۔

ایران سے تعلقات میں تبدیلی کا امکان نہیں

پچھلے ماہ شہزادہ محمد نے ایران کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا۔ دونوں ممالک شام اور یمن میں مخالف دھڑوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ریاض اور تہران میں تعلقات اُس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب سعودی حکام نے معروف شیعہ عالم نمر النمر کی سزائے موت پر عمل کیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے شہزادہ محمد کی ترقی ایک ’سافٹ کُو‘ قرار دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں