عراق: ’کینیڈا کے نشانہ باز نے دو میل دور سے شدت پسند کو گولی مار دی‘

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق میں تعینات کینیڈا کی سپیشل فورسز کے ایک نشانہ باز نے گذشتہ ماہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ایک جنگجو کو 2.1 میل کے فاصلے سے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

کینیڈا کی سپیشل آپریشنز کمانڈ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ نشانہ باز نے اتنے ہی فاصلے سے نشانہ لگایا ہے۔

اس نشانے کو طویل ترین فاصلے پر نشانہ لگا کر ہلاک کرنے کا نیا ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔

عسکری ذرائع نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ یہ نشانہ باز جوائنٹ ٹاسک فورس ٹو کا حصہ ہیں اور انھوں نے یہ نشانہ ایک اونچی عمارت سے لگایا تھا۔

اطلاعات کے مطابق گولی کو اپنے ہدف تک پہنچنے میں 10 سیکنڈ لگے۔

نشانہ باز نے ایک معائنہ کار کے ساتھ مل کر کام کیا جنھوں نے ہدف ڈھونڈنے میں ان کی مدد کی۔ نشانہ باز نے اس کام کے لیے کینیڈا کی فوج کی جانب سے دی جانے والی سٹینڈرڈ رائفل میکملن ٹی اے سی 50 استعمال کی۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد دولتِ اسلامیہ کی جانب سے عراقی فوج پر ایک حملے کو روکنا تھا۔

ان کے مطابق ’بجائے علاقے میں ایک بم گرانے کے جس میں عام شہریوں کی ہلاکت کا امکان تھا، ہم نے طاقت کا ایک مخصوص استعمال کیا۔ یہ فاصلہ اتنا زیادہ تھا کہ دشمنوں کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ نشانہ باندھنا اتنا مشکل تھا کہ اس میں بیلسٹک عناصر، ہوا کی رفتار، یہاں تک کہ کرۂ ارض کی گولائی تک کا خیال رکھنا پڑا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے طویل ترین نشانے پر دشمن کو مارنے کا ریکارڈ ایک برطانوی نشانہ باز کریئگ ہیرسن کے پاس تھا جنھوں نے افغانستان میں سنہ 2009 میں 2475 میٹر کی دوری سے ایک طالبان جنگجو کو مارا تھا۔

اسی بارے میں