عرب ممالک کے قطر سے الجزیرہ کی بندش اور ایران سے تعلقات میں کمی سمیت 13 مطالبات

شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے پیر کو دارالحکومت دوحہ میں صحافیوں سے بات چیت کی

سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے پیش کیے گئے ان مطالبات میں ٹی وی چینل الجزیرہ اور ترک فوجی اڈے کی بندش کے علاوہ ایران سے تعلقات میں کمی کا مطالبہ بھی شامل ہے اور ان پر عملدرآمد کے لیے قطر کو دس دن کا وقت دیا گیا ہے۔

حال ہی میں چھ عرب و خلیجی ممالک نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی مدد کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے اس سے تعلقات منقطع کیے ہیں جبکہ قطر ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

بات چیت کے لیے انھیں پابندیاں ہٹانی ہوں گی: قطر

قطر سعودی کشمکش میں پھنسے اونٹ

’قطر پالیسیاں تبدیل نہیں کرتا تو روابط بحال نہیں کریں گے‘

’سیاسی بحران کی وجہ ایران اور نہ ہی الجزیرہ'

قطر سے اظہارِ ہمدردی قابلِ سزا جرم ہے: متحدہ عرب امارات

اس اقدام سے خطے میں ایسا سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے جس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

یہ مطالبات اس وقت قطر کے سامنے پیش کیےگئے ہیں جب حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں عرب ممالک سے کہا کہ وہ اپنے مطالبات 'قابل عمل اور مناسب' رکھیں۔

نامہ نگاروں کا کا کہنا ہے کہ امریکہ اس بحران کا حل چاہتا ہے اور سعودی عرب کی جانب سے مطالبات کی فہرست تیار کرنے میں تاخیر سے امریکہ کافی پریشان تھا۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط متعلقہ حکام نے بتایا کہ مطالبات کی اس فہرست کو کویت نے قطر کے حوالے کیا ہے جو اس بحران کو حل کرنے لیے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

قطر کی جانب سے اس فہرست پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم قطری وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کہہ چکے ہیں کہ پابندیوں کے خاتمے تک بات چیت نہیں ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر

ان ممالک نے قطر کو اس پر عمل کرنے کے لیے دس دن کا وقت دیا گیا ہے۔

یہ مطالبات اس وقت قطر کو دیے گئے ہیں جب حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک سے کہا کہ وہ اپنے مطالبات 'قابل عمل اور مناسب' رکھیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے مطالبات کی فہرست حاصل کی ہے جس کے مطابق قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ

  • عرب ممالک کی جانب سے پابندی کا شکار اخوان المسلمون سے تمام تعلقات توڑ لے۔
  • چاروں ممالک کے شہریوں کو بےدخل کر دے تاکہ بقول ان ممالک کے قطر کو ان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی سے روکا جا سکے۔
  • چاروں ممالک کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تمام افراد کو ان ممالک کے حوالے کرے۔
  • ایسے شدت پسند گروہوں کی مالی امداد بند کرے جنھیں امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔
  • سعودی عرب اور دیگر ممالک کی ان حکومت مخالف شخصیات کی فہرست فراہم کرے جنھیں قطر نے مالی مدد فراہم کی ہے۔
  • سیاسی، اقتصادی اور دیگر معاملات میں خلیج تعاون کونسل کے موقف سے ہم آہنگی پیدا کرے۔
  • الجزیرہ کے علاوہ اعرابی21 اور مڈل ایسٹ آئی جیسے خبر رساں اداروں کی مالی مدد بند کرے۔
  • مالی ہرجانہ ادا کرے

مطالبات پیش کرنے والے ممالک میں سے ایک کے رہنما نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اس کے علاوہ قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کے علاوہ داعش، القا‏عدہ، حزب اللہ اور جبہۃ فتح الشام جیسی تنظیموں سے بھی قطع تعلق کر لے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے مطالبات کی جو فہرست دیکھی ہے اس میں قطر سے ایران میں سفارتی عملے میں کمی لانے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ارکان کو بے دخل کرنے اور امریکی پابندیوں کے مطابق ایران سے تجارت کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

مطالبات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ الجزیرہ ٹی وی چینل اور اس سے منسلک اداروں کو لازماً بند کیا جانا چاہیے۔ خلیجی ممالک اور مصر الجزیرہ پر اسلام پسند تحریکوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے اور حکومت مخالف سرگرمیوں کو ہوا دینے کے الزامات لگاتے رہے ہیں تاہم چینل اس سے انکار کرتا ہے۔

اس کے علاوہ دوحہ سے قطر میں ترکی کے فوجی اڈے کو بھی بند کرنے کا مطالبہ کیا گيا ہے۔ یہ اڈہ 2017 میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چھ ممالک کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایران اور ترکی قطر کو فضا کے راستے خوراک اور دیگر سامان فراہم کرتے رہے ہیں جبکہ ترکی نے رواں ہفتے ایک بحری جہاز بھی قطر روانہ کیا ہے

ترکی کا رد عمل

ترکی کے وزیر دفاع نے سعودی عرب سمیت چار ممالک کی جانب سے دیے گئے مطلابات میں شامل مطالبہ کہ ترکی کے فوجی اڈے کو قطر سے ختم کیا جائے کے رد عمل میں کہا ہے کہ فوجی اڈے پر نظر ثانی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ترکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ترکی کے فوجی اڈے کو قطر سے ختم کیے جانے کا مطالبہ ترکی اور قطر کے درمیان باہمی تعلقات میں دخل اندازی ہے۔

ترکی کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ کہ انھوں نے قطر میں ترکی کے فوجی اڈے کو بند کرنے کا مطالبہ نہیں دیکھا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا 'قطر میں ترکی کا فوجی اڈہ قطر اور خطے میں سکیورٹی کا ضامن ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں