کیا الجزیرہ بقا کی جنگ جیت پائے گا؟

الجزیرہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس میں کوئی شک نہیں کہ قطر کا میڈیا نیٹ ورک الجزیرہ کا دنیا کے نقشے پر قطر کی چھوٹی سی خلیجی ریاست کو ابھارنے میں بڑا اہم کردار رہا ہے۔

لیکن قطر میں جاری حالیہ سفارتی تنازع کے تناظر میں ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ اتنے بڑے نیٹ ورک کا مستقبل خطرے میں پڑھ سکتا ہے۔

الجزیرہ کی نشریات کے باعث تنازع پیدا ہوا ہے اور کئی عرب ممالک میں غصے کی لہر پھیل گئی ہے۔

٭ الجزیرہ کا عربی ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال کر دیا گیا

٭ ’سیاسی بحران کی وجہ ایران اور نہ ہی الجزیرہ'

حالیہ بحران کا پہلے ہی الجزیرہ شکار ہو چکا ہے اور اس کی ویب سائٹ کو گذشتہ ماہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین بلاک کر چکے ہیں۔

یہ تمام وہ ممالک ہیں جو حال ہی میں قطر پر شدت پسندی کے الزامات کے باعث سفارتی تعلقات ختم کر چکے ہیں۔ سعودی عرب نے الجزیرہ کے دفاتر بند کر کے نشریاتی لائسنس ختم کر دیے ہیں اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ’الجزیرہ شدت پسندوں کے منصوبوں کو آگے پھیلاتا ہے، سعودی عرب کے خلاف لڑنے والے حوثی باغیوں کی حمایت کرتا ہے اور سعودی عرب کے اندرونی رینکس کو توڑنے کی کوشش کر چکا ہے۔‘

دوسری جانب الجزیرہ کا کہنا ہے کہ ’وہ کسی نظریے، گروہ یا حکومت کا حمایتی نہیں۔‘

دوحہ میں بی بی سی عربی کے فراذ کیلانی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قطر کے سامنے رکھی جانے والے شرائط میں میڈیا اصلاحات انتہائی اہم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ الجزیرہ کو مکمل طور پر بند نہ کیا جائے لیکن اس کی ادارتی پالیسیوں کو تبدیل کیا جائے۔

مبثر سلطان سعود ال قاسمی کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ قطر کے پڑوسی ممالک ’کسی بھی طرح کی ثالثی سے قبل الجزیرہ ٹی وی نیٹورک کی مکمل بندش کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔‘

اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس کے قطری میڈیا اور دنیا بھر میں اس کے تین ہزار کے قریب ملازمین پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس حوالے سے الجزیرہ انگلش کے قائم مقام ڈائریکٹر جائلز ٹرینڈل کا کہنا تھا کہ ’قطر کے حالیہ بحران نئے چیلنجز اور حالات لے کر آیا ہے۔‘

’تاہم الجزیرہ اپنی بے خوف صحافتی ذمہ داریوں کو دنیا بھر میں پیشہ وارانہ، متوازن طریقے سے نبھاتا رہے گا۔‘

کنگز کالج لندن میں قطر کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ڈیوڈ رابرٹس اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ خلیجی ممالک اور مصر جو چیزیں قطر سے کروانا چاہیں گے ان میں ممکنہ طور پر الجزیرہ کی بندش بھی شامل ہوگی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لیکن یہ مذاکرات ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ قطر ان شرائط کو تسلیم کرے۔‘

دوسری جانب قطری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ 'میڈیا پر جو مہم چل رہی ہے (قطر کے خلاف) وہ خطے میں عوام کے خیالات بدلنے میں ناکام ہوئی ہے خاص طور پر خلیج کے ممالک میں اور یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجوہات بیان کرتا ہے۔'

اسی بارے میں